Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

امریکہ اور اسرائیل کو جنگ سے روکنے کا آخری موقع، ایران سے مذاکرات میں پیش رفت

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کا خطرہ برقرار ہے، تاہم قطر اور پاکستان کی معاونت سے جاری سفارتی کوششیں خطے کو ایک تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے اہم پیش رفت کر رہی ہیں ایران کے مذاکرات کار اتوار کو دوحہ پہنچے جہاں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی راہ نکالنے کی کوشش کی گئی یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے حملوں کے امکانات ظاہر کرنے کے باوجود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سفارتی کوششوں نے مذاکرات کا راستہ کھولا ہے گزشتہ ماہ کے آخر میں وینس نے ایران کے سکیورٹی سربراہ محسن رضائی کو خط لکھا جسے تہران میں مثبت انداز میں لیا گیا۔ ایرانی جنرل نے خط کے لہجے کو مثبت قرار دیا وینس اس سے پہلے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت بھی کر چکے ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم کر لے تو آبنائے ہرمز کو 2 دن کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش اور تجارتی پابندیوں نے خلیجی ممالک سمیت عالمی معیشت اور تیل و گیس کی ترسیل کو متاثر کیا ہے آبنائے ہرمز کھلنے سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کو معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے
امریکی نائب صدر کے خط میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ضمانتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ تہران امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے سمیت دیگر رعایتیں چاہتا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو لچک دکھانا ہوگی
تاہم سفارتی پیش رفت کو امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملوں سے شدید خطرہ لاحق ہے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ان منصوبوں پر بریفنگ حاصل کرنے کے بعد انہیں انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے تباہ کن کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے
ایران کے سپریم لیڈر نے بھی کسی حملے کی صورت میں جغرافیائی حدود سے قطع نظر جوابی کارروائی کا حکم دیا ہے اس صورتحال میں جنگ کا دوبارہ آغاز پورے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتا ہے
موجودہ سفارتی کوششیں خطے کے ممالک کی جنگ سے بچنے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں اگر امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کو ناکام بنایا تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں امن کے اس مختصر موقع کو ضائع ہونے سے بچانے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی انتظامیہ میں سفارت کاری کے حامی عناصر کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا

قومی خبریں سے مزید