Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حوثیوں کو حملے روکنے کے لیے سعودی عرب کی ایک ارب ڈالر کی پیشکش؟ تہران مذاکرات کے بعد تہلکہ خیز دعویٰ

حوثیوں کو حملے روکنے کے لیے سعودی عرب کی ایک ارب ڈالر کی پیشکش؟ تہران مذاکرات کے بعد تہلکہ خیز دعویٰ

تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کو حملے روکنے اور جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے 26 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا،رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام میں ایران کو بھی کردار ادا کرنا تھا تاکہ حوثیوں کو حملے روکنے پر آمادہ کیا جا سکے
رپورٹ میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے تہران کے دورے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو اس معاملے سے جوڑا گیا ہے،تاہم، یہ واضح نہیں کہ ایک ارب ڈالر کی پیشکش باقاعدہ معاہدے کا حصہ تھی، اس پر فریقین نے اتفاق کیا تھا یا یہ محض مذاکرات کے دوران زیرِ بحث آنے والی تجویز تھی
اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا سعودی عرب نے واقعی یہ رقم حوثیوں کو منتقل کی ہے یا نہیں،دستیاب رپورٹ میں رقم کی منتقلی کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، جبکہ سعودی عرب کے سرکاری بیان میں بھی حوثیوں کو ایک ارب ڈالر دینے کا ذکر نہیں کیا گیااس لیے پیشکش کے دعوے اور رقم کی حقیقی ادائیگی کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

یمن کے حوثی کئی برس سے سعودی عرب اور خطے میں دیگر اہداف کے خلاف حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حملوں کا تعلق یمن کی جنگ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی، اور ایران کے علاقائی کردار سے جڑا رہا ہے۔ ایسے میں اگر ایک ارب ڈالر کی مالی پیشکش واقعی زیرِ غور آئی ہے تو یہ اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ خطے میں جنگ بندی کے لیے سفارتی اور مالی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید مستند شواہد درکار ہیں۔

تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والا یہ دعویٰ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں، جبکہ ایران کا حوثیوں پر اثر و رسوخ کسی بھی ممکنہ مفاہمت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایک ارب ڈالر کی پیشکش کو ایک شائع شدہ مگر غیرمصدقہ دعوے کے طور پر بیان کرنا درست ہوگا، نہ کہ حوثیوں کو رقم منتقل کیے جانے کے ثابت شدہ واقعے کے طور پر

قومی خبریں سے مزید