ٹرمپ کی مسیسیپی ریلی میں معیشت، ایران جنگ اور اوباما سے لفظی جنگ، بحرِ اوقیانوس کا نام بدلنے پر بھی مزاح، دریائے مسسیپی کا نام نہ تبدیل کرنے کا وعدہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل 26 اکتوبر کو ریاست مسیسیپی کے شہر کورنتھ میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی،ان کی ریلی کا مقصد ریپبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کی انتخابی مہم کو تقویت دینا تھا، جنہیں ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم سے توقع سے زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے،ٹرمپ نے اپنی تقریر میں معیشت، روزگار، ایران کے ساتھ جنگ، تیل کی قیمتوں، سابق صدر باراک اوباما کی وائٹ ہاؤس سے متعلق تنقید اور اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں جغرافیائی نام تبدیل کرنے کے موضوعات پر بات کی
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے تحت امریکی معیشت مضبوط ہے، آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ امریکی روزگار سے وابستہ ہیں،انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت ریپبلکنز کو انتخابات میں کامیابی دلانے میں مدد دے گی،تاہم ان کے معاشی دعووں کے مقابلے میں ووٹروں کی ایک بڑی تشویش مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ ہے،رائٹرز کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ نے تیل کی قیمتوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جس سے ٹرمپ کے معاشی پیغام اور عوام کے ذاتی مالی تجربات کے درمیان فرق نمایاں ہوا ہے
ایران جنگ کے بارے میں ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ تنازعہ کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن ان کا مؤقف تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ جنگ ضروری ہے،انہوں نے پیش گوئی کی کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی،ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی سابقہ عارضی جنگ بندی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں یہ معاہدہ زیادہ پسند نہیں تھا، اگرچہ انہوں نے اس وقت ماہرین کی بات سننے کا فیصلہ کیا تھا،یہ مؤقف ان کے اس سابقہ بیان سے مختلف تھا جس میں انہوں نے جنگ بندی کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا تھا
اوباما کی تنقید کا جواب، وائٹ ہاؤس کو ملک کی علامت قرار دے دیا
صدر ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر کی گئی تنقید کا بھی جواب دیا،اوباما نے ٹرمپ کے تعمیراتی منصوبوں اور اوول آفس میں سنہری سجاوٹ کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کے انداز کا موازنہ ایک ایسی چیز سے کیا تھا جیسے صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھول لی ہو،انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ کو حکومتی امور کے بجائے ٹی وی پر گھروں کی تزئین و آرائش کے پروگرام میں ہونا چاہیے
ٹرمپ نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس امریکہ کی علامت ہے اور اس کی دیکھ بھال ضروری ہے،ان کے مطابق، عمارت میں خراب پلستر، ٹوٹے ہوئے ستون، غائب آرائشی حصوں اور ٹوٹی ٹائلوں جیسے مسائل تھے جن کی مرمت کی ضرورت تھی،انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو خوب صورت اور اچھی حالت میں رکھنا ان کے لیے اہم ہے اور تعمیراتی کاموں نے ان کی صدارتی ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی رہائش گاہ سے اوول آفس جاتے ہوئے عمارت کے مسائل دیکھتے ہیں اور متعلقہ لوگوں کو انہیں درست کرنے کی ہدایت دیتے ہیں،انہوں نے اوباما کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی تاریخی حیثیت اور ملک کی نمائندگی کو سمجھنا ضروری ہے
خلیجِ میکسیکو سے بحرِ اوقیانوس تک نام بدلنے کے قصے، سامعین قہقہے لگاتے رہے
ریلی کا ایک دلچسپ حصہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کے اپنے سابقہ فیصلوں اور مستقبل کے خیالات پر بات شروع کی،انہوں نے خلیجِ میکسیکو کو ’’خلیجِ امریکہ‘‘ اور کینیڈا کے ساتھ واقع ایک عظیم جھیل کو ’’جھیلِ امریکہ‘‘ کہنے کے فیصلوں کا حوالہ دیا،اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اب انہیں ایک دریا اور ایک سمندر کا نام بھی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی سے بحرِ اوقیانوس کا نام ’’امریکن اوشن‘‘ رکھنے کے بارے میں بات کی تھی،ان کے بیان کے مطابق، انہوں نے آبنائے ہرمز کا نام ’’ٹرمپ اسٹریٹ‘‘ رکھنے کا خیال بھی پیش کیا،ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں گوگل کے سربراہ کا ردعمل بیان کرتے ہوئے کہا کہ پچائی نے گویا انہیں جواب دیا کہ وہ خلیج اور جھیل کے نام تبدیل کرنے میں تو کسی حد تک ساتھ دے سکتے ہیں، لیکن پورے بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل نہیں کر سکتے
ٹرمپ نے پھر واضح کیا کہ یہ باتیں انہوں نے مذاق میں کہی تھیں،انہوں نے خبردار کیا کہ ذرائع ابلاغ ان کے مذاق کو سنجیدہ خبر بنا کر پیش کر سکتے ہیں،اس پر مجمعے میں ہنسی اور تالیاں سنائی دیں،انہوں نے کہا کہ اخبارات اگلے روز یہ سرخی لگا سکتے ہیں کہ ٹرمپ بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ محض سامعین کے ساتھ مزاح کر رہے تھے
انہوں نے مسیسیپی دریا کا نام تبدیل کرنے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دریا کا نام کبھی نہیں بدلیں گے،یہ جملہ خاص طور پر اس لیے قابلِ ذکر تھا کہ وہ اسی نام کی ریاست میں موجود تھے جہاں انہوں نے ریپبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کی حمایت میں ریلی منعقد کی تھی
ریپبلکن سینیٹر کی حمایت اور انتخابات کا دباؤ
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں سنڈی ہائیڈ اسمتھ کی حمایت کرتے ہوئے ریپبلکن ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی دن گھروں میں نہ بیٹھیں،انہوں نے کہا کہ انہیں ریاست میں اپنی جماعت کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے خود آنا پڑا، کیونکہ وہ کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے،مسیسیپی روایتی طور پر ریپبلکنز کی مضبوط ریاست رہی ہے، لیکن ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولمکی مہم نے اس مرتبہ مقابلے کو زیادہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے
کولم مقامی استغاثہ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور کامیاب ہونے کی صورت میں تعمیرِ نو کے بعد سے مسیسیپی سے منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام سینیٹر بن سکتے ہیں،ان کی مہم مہنگائی، ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی اور ہائیڈ اسمتھ کے متنازعہ بیانات کو انتخابی موضوع بنا رہی ہے،کولم نے انتخابی ریلی کے مقام پر ٹرمپ کے حامیوں سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ریاست کے شہری ایسے سینیٹر کے مستحق ہیں جو ان کی بات سنے اور ان کے مسائل کو سمجھے
مسیسیپی میں ٹرمپ کی آمد اس بات کی بھی علامت تھی کہ ریپبلکن قیادت اب ان ریاستوں میں بھی بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہے جہاں اسے پہلے واضح برتری حاصل ہونے کی توقع تھی،3 نومبر کے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول داؤ پر ہے، اور دونوں جماعتیں آخری ہفتے میں اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے بڑے ناموں اور انتخابی جلسوں پر انحصار کر رہی ہیں
مسیسیپی کی سینیٹ نشست کے لیے تازہ ترین پولنگ اوسط کے مطابق، 22 اکتوبر 2026 تک ریپبلکن امیدوار سنڈی ہائیڈ اسمتھ کو 43.5 فیصد اور ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم کو 39.4 فیصد حمایت حاصل تھی، یعنی ریپبلکن امیدوار تقریباً 4.1 پوائنٹس آگے تھیں
اگرچہ مسیسیپی روایتی طور پر ریپبلکن ریاست ہے اور انتخابی تجزیہ کار ہائیڈ اسمتھ کو اب بھی برتری دیتے ہیں، لیکن ڈیموکریٹس نے کولم کی مہم کے لیے اشتہارات پر 1.2 ملین ڈالر لگائے ہیں،اسی سخت مقابلے کے باعث صدر ٹرمپ 26 اکتوبر کو خود مسیسیپی پہنچے اور اپنی جماعت کی امیدوار کی حمایت میں ریلی کی





