ری پبلکنز نے اپنے حق میں انتخابی حلقوں کی حدبندی پر ڈالروں کی بوریوں کے منہ کھول دئیے :پھر بھی کئی نشستیں ہارنے کا خدشہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی نے کانگریس کے انتخابی حلقوں کی حدود اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لیے گزشتہ سال سے کوششیں شروع کر رکھی تھیں، لیکن 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک ہفتہ پہلے یہ حکمت عملی توقعات کے مطابق نتائج دیتی دکھائی نہیں دے رہی،ریپبلکنز اب ان حلقوں میں بھی کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں جنہیں انہوں نے اپنی جماعت کے لیے محفوظ بنانے کی کوشش کی تھی، جبکہ بعض حلقوں میں ڈیموکریٹ امیدوار سخت مقابلہ کر رہے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں
امریکی نشریاتی ادارے این پی آر کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ اور ان کی سیاسی ٹیم نے ریپبلکن اکثریتی ریاستوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ کانگریس کے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی اس انداز میں کی جائے جس سے ریپبلکنز کو زیادہ نشستیں مل سکیں،اس منصوبے کا مقصد صدر کی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں اس روایتی رجحان سے بچانا تھا جس کے تحت صدر کی جماعت عموماً کانگریس کی نشستیں کھو دیتی ہے
انتخابی تجزیاتی ادارے انسائیڈ الیکشنز کے مدیر نیتھن گونزالیس نے کہا کہ صورت حال منصوبہ بندی کے مطابق نہیں نکلی،ان کے مطابق، ریپبلکنز کو جن نشستوں پر آسان کامیابی کی توقع تھی، اب وہاں بھی بھاری انتخابی اخراجات کرنا پڑ رہے ہیں اور اس کے باوجود شکست کا امکان موجود ہے
شمالی کیرولائنا کا پہلا کانگریسی حلقہ اس صورت حال کی نمایاں مثال ہے،ریاستی مقننہ نے گزشتہ سال کے آخر میں اس حلقے کی حدود اس طرح تبدیل کی تھیں کہ ریپبلکنز کو واضح برتری حاصل ہو،نئی حدبندی کے مطابق، اگر 2024 کے صدارتی انتخابات انہی حدود میں ہوتے تو ٹرمپ اس حلقے میں 11 فیصد پوائنٹس سے زیادہ فرق سے کامیاب ہوتے،لیکن اب یہ نشست سخت مقابلے والی قرار دی جا رہی ہے
ٹرمپ نے حال ہی میں مشرقی شمالی کیرولائنا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا، جہاں سابق ریپبلکن پارٹی سربراہ اور اب سینیٹ کے امیدوار مائیکل واٹلی کو زیادہ توجہ حاصل رہی،سرد موسم اور رات دیر ہونے کے باوجود ٹرمپ نے آخرکار ریپبلکن کانگریسی امیدوار لوری بک ہاؤٹ اور جینیفر بالکوم کو اسٹیج پر بلایا اور ووٹروں سے ان کی حمایت کرنے کی اپیل کی،بک ہاؤٹ شمالی کیرولائنا کے پہلے حلقے سے اور بالکوم ریاست کے گیارہویں حلقے سے امیدوار ہیں
ریٹائرڈ فوجی افسر بک ہاؤٹ نے کہا کہ حلقے میں ریپبلکنز کی تعداد زیادہ ہے اور کامیابی کے لیے صرف اپنے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک لانا ضروری ہے،تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ووٹروں کو بار بار ووٹ ڈالنے کی اپیل اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ ریپبلکن قیادت کو ووٹروں کی شرکت کے حوالے سے تشویش ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ان دونوں امیدواروں کی حمایت میں خصوصی اپیل کریں، کیونکہ ان کے مقابلے سخت ہیں
این پی آر کے مطابق، اگر حلقے کی نئی حدبندی کا مقصد ریپبلکن امیدوار کے لیے آسان کامیابی یقینی بنانا تھا تو ایسا نہیں ہوا،یکم ستمبر سے 3 نومبر تک اس حلقے میں انتخابی اشتہارات پر 42 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کا اندازہ ہے،یہ رقم این پی آر نے ایڈ امپیکٹ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی ہے، جس سے یہ مقابلہ ملک کی مہنگی ترین کانگریسی انتخابی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے
شمالی کیرولائنا کے پہلے حلقے میں ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ڈان ڈیوس کو بھی نئے انتخابی نقشے کے مطابق اپنی مہم نئے علاقوں تک لے جانا پڑ رہی ہے،حال ہی میں وہ جنوب مشرقی علاقے سوانسبورو میں قبل از وقت ووٹنگ کے مقام پر ووٹروں سے ملاقات کر رہے تھے،وہاں ایک ووٹر نے انہیں بتایا کہ وہ اس کے حلقے کے نمائندے نہیں ہیں،ڈیوس نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ حالیہ عرصے میں ان کے ساتھ ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے
ڈیوس نے کہا کہ وہ تیسرے مختلف انتخابی نقشے کے تحت تیسری مرتبہ انتخاب لڑ رہے ہیں،نئی حدبندی میں ان کی آبائی کاؤنٹی کو حلقے سے نکال دیا گیا اور چھ نئی کاؤنٹیوں کے تمام یا بعض حصے شامل کر دیے گئے،اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ مشرقی شمالی کیرولائنا کے لوگوں کے مسائل بنیادی طور پر ایک جیسے ہیں
ڈیوس نے مہنگائی، بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں کے لیے مسئلہ اب صرف اخراجات برداشت کرنے کا نہیں بلکہ معاشی طور پر زندہ رہنے کا بن گیا ہے،انہوں نے کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور ماہی گیروں کا حوالہ دیا جو ایندھن کی بلند قیمتوں سے متاثر ہو رہے ہیں
ڈیوس نے انتخابی حلقوں کی بار بار تبدیلی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں سمجھ نہیں آتا کہ حلقے کی حدود کو مزید کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے،انہوں نے مذاقاً کہا کہ شاید ورجینیا کے کچھ حصے شمالی کیرولائنا میں شامل کرنا پڑیں یا حلقے کو بحر اوقیانوس تک پھیلا دیا جائے، جہاں وہ مچھلیوں سے بات کرتے ہوئے تیرتے رہیں گے
شمالی کیرولائنا کے ڈیموکریٹک انتخابی مشیر مورگن جیکسن نے کہا کہ ریپبلکنز کو شاید یقین تھا کہ نئی حدبندی کے ذریعے ڈان ڈیوس کو شکست دے دی گئی ہے، لیکن وہ ایک مضبوط مقامی امیدوار ہیں جو ہمیشہ اچھا انتخابی مقابلہ کرتے ہیں،جیکسن ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار رائے کوپر کی مہم بھی چلا رہے ہیں
نیتھن گونزالیس کے مطابق، ملک بھر میں ریپبلکنز نے نئی حدبندی کے ذریعے کانگریس کے 15 حلقوں میں اپنی انتخابی پوزیشن بہتر کی تھی، لیکن انتخابات کے قریب آنے پر ان میں سے بعض حلقے آسان کامیابی کے بجائے سخت مقابلوں میں تبدیل ہو گئے ہیں،نتیجتاً پارٹی کو ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑ رہے ہیں
ایک ریپبلکن انتخابی مشیر نے اس مؤقف سے اختلاف کیا کہ حدبندی کی کوشش ناکام ہو گئی ہے،انہوں نے کہا کہ انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی نئے میدانِ مقابلہ بناتی ہے، لیکن خود بخود انتخابی نتائج طے نہیں کرتی،تاہم، این پی آر کے مطابق، یہ مؤقف اس اعتماد سے مختلف ہے جس کا اظہار ریپبلکنز نے چند ماہ پہلے ان حلقوں کے بارے میں کیا تھا
فلوریڈا میں کانگریس کے دو حلقوں کی نئی حدبندی کے بعد انتخابی اشتہارات پر مجموعی اخراجات 90 ملین ڈالر کے قریب پہنچ رہے ہیں،ان حلقوں کی حدود ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس کو شکست دینے کے مقصد سے تبدیل کی گئی تھیں
ٹیکساس میں بھی وہ حلقے، جنہیں ٹرمپ کی 10 فیصد پوائنٹس کی برتری کے مطابق ریپبلکنز کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، اب ڈیموکریٹس کی جانب زیادہ مسابقتی ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،ایک ایسا حلقہ بھی خطرے میں آ گیا ہے جسے پہلے ریپبلکنز کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی حدبندی میں اس کے اندر ڈیموکریٹ ووٹروں والے علاقے شامل کر دیے گئے
شمالی کیرولائنا کے انتخابی مشیر مورگن جیکسن نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار یہ حکمت عملی جیری مینڈرنگ کے بجائے ’’ڈمی مینڈرنگ‘‘ ثابت ہو سکتی ہے،جیری مینڈرنگ سے مراد انتخابی حلقوں کی حدود اس طرح بنانا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو انتخابی فائدہ پہنچے، جبکہ ڈمی مینڈرنگ طنزیہ اصطلاح ہے جس سے مراد ایسی حدبندی ہے جو اپنے مطلوبہ سیاسی فائدے کے بجائے الٹا نقصان پہنچا دے
این پی آر کی رپورٹ کے مطابق، انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی نے ریپبلکنز کو بعض نشستوں پر فائدہ ضرور دیا، لیکن امیدواروں کی مقامی مقبولیت، ووٹروں کی انتخابی شرکت، مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور دیگر معاشی مسائل نے اس فائدے کو محدود کر دیا ہے،3 نومبر کے انتخابات میں یہ واضح ہوگا کہ ریپبلکنز کی جانب سے انتخابی نقشے تبدیل کرنے کی کوششیں انہیں واقعی کتنی نشستیں دلا پاتی ہیں





