کارکنوں کی جانیں بچانے کے لیے پی ٹی آئی نے فوری احتجاج سے گریز کیا، خیبر پختونخوا میں قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر زور
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا شاخ نے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے اعلان کے بعد پارٹی نے فوری احتجاج کی کال دینے سے گریز کیا تاکہ کارکنوں کو ممکنہ تشدد، گرفتاریوں اور جانی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے پارٹی قیادت کے مطابق فوری احتجاج نہ کرنے کا مطلب سیاسی جدوجہد سے دستبرداری نہیں بلکہ مناسب وقت اور منظم حکمت عملی اختیار کرنا ہے
پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن احتجاج کرنا پارٹی کا حق ہے، تاہم احتجاج کے وقت، نوعیت اور طریقۂ کار کا فیصلہ قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت ہونا چاہیے ان کے مطابق صوبائی، علاقائی اور ضلعی تنظیموں، انصاف لائرز فورم، ارکان اسمبلی اور کارکنوں سے مشاورت کے دوران آئندہ سیاسی لائحۂ عمل کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا
علی اصغر خان نے کہا کہ پارٹی نے فوری ردعمل کے بجائے ایسے وقت میں احتجاج کرنے کو ترجیح دی ہے جب اس کے لیے مناسب تیاری اور منظم منصوبہ بندی موجود ہو ان کے بقول اس فیصلے کا مقصد کارکنوں کو مزید گرفتاریوں اور تشدد سے بچانا اور ایسے واقعات کا امکان کم کرنا ہے جنہیں اشتعال انگیزی کے ذریعے غلط رنگ دیا جا سکتا ہو
انہوں نے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پولیس کی فائرنگ سے پی ٹی آئی کے متعدد کارکن زخمی ہوئے تھے ان کے مطابق اس واقعے کے بعد احتجاج کرنے کے خواہش مند کارکنوں اور ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی کہ وہ پارٹی کی باضابطہ ہدایات کا انتظار کریں اور انفرادی طور پر فوری ردعمل دینے سے گریز کریں
پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے اپنے سیاسی مطالبات میں سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے، منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور آئینی حقوق کے تحفظ کو شامل کیا ہے پارٹی نے عوامی مینڈیٹ کے تحفظ اور خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل اور معدنیات میں صوبے کے جائز حصے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے
علی اصغر خان کے مطابق پارٹی کی مرکزی قیادت دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے اور صوبائی تنظیم چاہتی ہے کہ جلد از جلد کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے اس کانفرنس میں آئینی اور جمہوری مقاصد کے لیے مشترکہ مؤقف اور آئندہ سیاسی حکمت عملی طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد کے ساتھ قانونی اور پارلیمانی اقدامات، وکلا، پیشہ ور تنظیموں اور سول سوسائٹی سے رابطوں اور آئینی و انسانی حقوق کے معاملات کو اجاگر کرنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے صوبائی تنظیم نے مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ نومبر 2026 کے پہلے ہفتے کے اختتام تک قومی سطح پر آئندہ سیاسی لائحۂ عمل کے بارے میں واضح ہدایات جاری کی جائیں
پی ٹی آئی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ احتجاجی ریلیوں میں پارٹی کارکن مسلح نہیں تھے، جبکہ انہیں روکنے والے مسلح تھے ان کے مطابق پارٹی کارکنوں کی جانوں کا تحفظ احتجاج کے فیصلوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے
صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے فوری احتجاج سے گریز اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی آئندہ اقدامات کے لیے مرکزی قیادت اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کو اہمیت دے رہی ہے تاہم احتجاج، قانونی اقدامات اور حکومت کے ساتھ سیاسی کشمکش کا آئندہ رخ مرکزی قیادت کے فیصلوں اور صوبے کی صورت حال پر منحصر ہو گا





