جان اولیور کی ریپبلکن پارٹی پر تنقید، انتہا پسندی اور نازی نظریات سے قربت پر سوالات اٹھا دیے، پارٹی فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے
واشنگٹن:امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل معروف ٹی وی میزبان جان اولیور نے ریپبلکن پارٹی میں انتہا پسندی، تعصب اور نازی نظریات سے مبینہ قربت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے اپنے اندر موجود ان رجحانات کے بارے میں سنجیدہ سوالات کا سامنا کرنا ہوگا
برطانوی اخبار گارڈین کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ایچ بی او کے پروگرام ’’لاسٹ ویک ٹونائٹ‘‘ کے تازہ ایپی سوڈ میں اولیور نے اپنی پوری نشریات ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اس رجحان کے جائزے کے لیے مختص کیں، جسے انہوں نے تشویش ناک قرار دیا
اولیور نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کو نازیوں سے متعلق حوالوں اور علامتوں کے معاملے پر مسلسل غیر آرام دہ سوالات کا جواب دینا پڑ رہا ہے،ان مثالوں میں نیویارک سے کانگریس کے ایک امیدوار کی جانب سے اپنے دادا کی نازی وردی میں تصویر پوسٹ کرنا اور ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کا 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران ایسا اشارہ کرنا شامل ہے جسے بعض مبصرین نے نازی سلام سے تشبیہ دی تھی
مسک کے اس اشارے پر تبصرہ کرتے ہوئے اولیور نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس حرکت میں تقریباً ہر چیز نازیوں کی یاد دلاتی ہے،پھر انہوں نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں اضافہ کیا کہ نازیوں کے حق میں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ کم از کم اپنے سوٹ اچھے طریقے سے پہنتے تھے، جو ان کے بقول مسک کے معاملے میں نہیں کہا جا سکتا
اولیور نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی ایسے طرزِ عمل اور بیانات کے بارے میں ضرورت سے زیادہ مطمئن ہوتی جا رہی ہے جنہیں کم از کم نازی نظریات سے ملحق قرار دیا جا سکتا ہے
انہوں نے اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے خصوصی وکیل کے دفتر کے لیے نامزد کیے گئے پال انگراسیا کا معاملہ بھی اٹھایا،گارڈین کے فراہم کردہ اقتباس کے مطابق، انگراسیا کے بارے میں سامنے آنے والے پیغامات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال بھی پروگرام میں زیرِ بحث آئی،
اولیور کی تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں،ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول طے ہونا ہے، جبکہ ریپبلکن امیدواروں کے بیانات، سیاسی اتحاد اور انتہا پسندانہ نظریات سے متعلق تنازعات بھی انتخابی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں
گارڈین کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو اپنے اندر تعصب اور انتہا پسندی سے متعلق الزامات کا سامنا ہے، اور یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ پارٹی کی قیادت ان معاملات سے کس طرح نمٹتی ہے،تاہم، اولیور کے تبصرے ان کے سیاسی و طنزیہ پروگرام کا حصہ ہیں، انہیں تمام ریپبلکنز کے بارے میں کسی ثابت شدہ عمومی نتیجے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے
جان اولیور برطانوی نژاد امریکی ٹی وی میزبان، مزاح نگار اور سیاسی مبصر ہیں، جو ایچ بی او کے پروگرام ’’لاسٹ ویک ٹونائٹ ود جان اولیور‘‘ کے ذریعے امریکی سیاست، حکومتی پالیسیوں اور سماجی مسائل پر تحقیقی مواد اور طنزیہ تبصروں کے لیے شہرت رکھتے ہیں،ان کا انداز عمومی طور پر لبرل اور ترقی پسند سیاسی نقطۂ نظر سے قریب سمجھا جاتا ہے، نہ کہ قدامت پسند سیاست سے،”ان کے پروگرام کو 32 ایمی ایوارڈز اور 2 پیبڈی ایوارڈز مل چکے ہیں، جبکہ اس پروگرام کے سرکاری یوٹیوب چینل کے 10 ملین سے زیادہ سبسکرائبرز اور مجموعی طور پر 3.7 ارب سے زیادہ ویڈیو ویوز ہیں،2014 میں ان کے نیٹ نیوٹرلٹی سے متعلق پروگرام کے بعد امریکی وفاقی کمیونیکیشن کمیشن کو عوام کی جانب سے تقریباً 45,000 تبصرے موصول ہوئے، جسے ان کے عوامی اثر کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے،تاہم، ان کی تنقید کو تمام امریکیوں کی رائے یا کسی سیاسی جماعت کے بارے میں غیر جانب دار تحقیقی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے،ان کے ناظرین میں لبرل اور ڈیموکریٹک رجحان رکھنے والے افراد کی نمایاں موجودگی بھی ان کے سیاسی تبصروں کے اثر کو سمجھنے میں اہم ہے





