Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹورنٹو میں اولیویا چاؤ دوسری بار میئر منتخب، بریڈ بریڈفورڈ کا سخت مقابلہ بھی کامیابی نہ روک سکا

ٹورنٹو میں اولیویا چاؤ دوسری بار میئر منتخب، بریڈ بریڈفورڈ کا سخت مقابلہ بھی کامیابی نہ روک سکا

کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں میئر کے انتخاب میں اولیویا چاؤ نے دوسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ 26 اکتوبر 2026 کو ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں ان کا مقابلہ سٹی کونسلر بریڈ بریڈفورڈ سے تھا، جنہوں نے انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں اپنی حمایت میں اضافہ کیا اور مقابلے کو انتہائی دلچسپ بنا دیا تاہم، آخری نتائج میں چاؤ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں
اولیویا چاؤ کی کامیابی اس لیے اہم ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ان کے مخالف امیدوار بریڈ بریڈفورڈ نے تیزی سے اپنی حمایت بڑھائی تھی ستمبر میں بعض جائزوں کے مطابق بریڈفورڈ، چاؤ سے 17 فیصد پوائنٹس تک پیچھے تھے، لیکن انہوں نے اپنی مہم میں ٹیکس، مہنگائی اور عوامی ٹرانزٹ کے مسائل کو نمایاں کرکے مقابلہ سخت کر دیا اکتوبر کے آخری ہفتے میں جاری ہونے والے سروے بھی اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان فرق کم ہو چکا ہے
چاؤ نے انتخابی مہم کے دوران اپنے مؤقف میں اس بات پر زور دیا کہ ٹورنٹو ایک ایسا شہر ہونا چاہیے جہاں شہری ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں انہوں نے اپنے حامیوں سے گفتگو میں کہا کہ شہر کی مضبوطی باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری میں ہے ان کا مؤقف تھا کہ میئر کی حیثیت سے ان کی ترجیح شہریوں کے لیے رہائش، بنیادی سہولتوں اور معاشی تحفظ کے مسائل پر کام جاری رکھنا ہے
دوسری جانب بریڈ بریڈفورڈ نے شہریوں کو مالی ریلیف دینے کے وعدوں کے ذریعے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ان کی نمایاں تجاویز میں پراپرٹی ٹیکس ایک سال کے لیے منجمد کرنا، 1.1 ملین ڈالر سے کم قیمت کے گھروں پر لینڈ ٹرانسفر ٹیکس میں کمی اور اگر ٹی ٹی سی کی سواری 15 منٹ سے زیادہ تاخیر کا شکار ہو تو مسافروں کو مفت سفر کی سہولت دینا شامل تھا ان تجاویز کا مقصد شہریوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم کرنا اور بلدیاتی انتظامیہ کو روزمرہ مسائل کے حل کے لیے جواب دہ بنانا تھا
بریڈفورڈ کی انتخابی مہم کو اس وقت مزید تقویت ملی جب سابق وفاقی وزیر کرس الیگزینڈر نے اکتوبر کے اوائل میں میئر کے انتخاب سے دست برداری اختیار کر لی اس کے بعد بریڈفورڈ کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا اور کچھ عرصے کے لیے انتخابی مقابلہ غیر یقینی دکھائی دینے لگا تاہم، انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ آخری مرحلے میں چاؤ اپنے ووٹروں کی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں
اولیویا چاؤ نے 2023 میں بھی ٹورنٹو کے میئر کا انتخاب جیتا تھا ان کی پہلی مدت کے دوران رہائش کی استطاعت، بے گھری، ٹرانزٹ، شہری اخراجات اور عوامی خدمات اہم موضوعات رہے دوسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ان کے سامنے یہ چیلنج ہوگا کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے وعدوں اور منصوبوں کو کس طرح آگے بڑھاتی ہیں
ٹورنٹو میں پراپرٹی ٹیکس اور رہائش کے اخراجات انتخابی سیاست کے اہم ترین معاملات میں شامل ہیں شہر میں گھر خریدنا اور کرائے پر رہنا بہت سے خاندانوں کے لیے مشکل ہو چکا ہے، جبکہ ٹریفک اور عوامی ٹرانزٹ کے مسائل بھی روزانہ ہزاروں شہریوں کو متاثر کرتے ہیں بریڈفورڈ نے انہی معاملات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے چاؤ کی انتظامیہ کے متبادل کے طور پر اپنی تجاویز پیش کیں، لیکن ووٹروں نے بالآخر چاؤ کو ایک اور مدت کے لیے منتخب کیا
چاؤ کی دوسری مدت کا اصل امتحان اب انتخابی مہم کے بعد شروع ہوگا انہیں شہریوں کی توقعات پر پورا اترنے، رہائش کے بحران سے نمٹنے، ٹرانزٹ کو بہتر بنانے اور شہر کے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے عوامی خدمات فراہم کرنے جیسے معاملات پر پیش رفت دکھانا ہوگی دوسری جانب بریڈفورڈ کی مہم نے یہ واضح کیا کہ شہری اخراجات اور ٹیکسوں کے معاملے پر ووٹروں میں خاصی دلچسپی موجود ہے
26 اکتوبر کے بلدیاتی انتخابات میں ٹورنٹو کے ساتھ مسی ساگا اور اونٹاریو کے دوسرے شہروں میں بھی میئرز اور سٹی کونسلرز کا انتخاب ہوا ٹورنٹو میں چاؤ کی کامیابی نے شہر کی موجودہ قیادت کو مزید 4 سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اب شہریوں کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ نئی مدت میں ان کی زندگیوں سے متعلق اہم مسائل پر کتنی عملی پیش رفت ہوتی ہے

قومی خبریں سے مزید