مودی حکومت کے زیرِ انتظام دہلی کے ثقافتی مرکز میں پریانکا گاندھی کے بیٹے کی سیاسی تصاویر ہٹانے کا حکم، ترنگے کی تصاویر بھی نشانہ بن گئیں
دہلی:بھارت میں آزادیٔ اظہار اور سیاسی اختلاف کے حوالے سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جہاں کانگریس رہنما پریانکا گاندھی واڈرا کے بیٹے اور راہول گاندھی کے بھانجے رَیحان راجیو واڈرا کی تصویری نمائش سے طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کی درجنوں تصاویر افتتاح سے چند گھنٹے پہلے ہٹوا دی گئیں،رَیحان کے مطابق دہلی کے بیکانیر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ان کی نمائش ’’نو آئیڈیا از فائنل‘‘ میں 105 تصاویر شامل تھیں، لیکن انتظامیہ نے ان میں سے تقریباً 70 سے 75 تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کیا،ان تصاویر میں دہلی کے جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کی عکاسی کی گئی تھی،رَیحان کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ تصاویر سیاسی نوعیت کی ہیں اور موجودہ حالات میں ان کی نمائش مناسب نہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی پرچم، ترنگے، کی دو تصاویر ہٹانے پر بھی اعتراض کیا گیا،ان کے مطابق انہوں نے ابتدا میں انہیں ہٹانے سے انکار کیا، لیکن بعد میں انتظامیہ نے ان میں سے ایک تصویر خود ہٹا دی
رَیحان کی نمائش میں جنگلی حیات کی فوٹوگرافی، شہری زندگی اور تجریدی فن پارے بھی شامل تھے، تاہم تنازعہ ان تصاویر پر پیدا ہوا جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہلی میں ہونے والے عوامی مظاہروں کو دکھاتی تھیں،ان میں جولائی میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی تصاویر بھی شامل تھیں،رَیحان کے مطابق ان کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی تشہیر یا مخالفت کرنا نہیں بلکہ اپنے اردگرد ہونے والی سماجی اور عوامی تحریکوں کو ایک فنکار کی نظر سے محفوظ کرنا تھا،انہوں نے کہا کہ تصاویر ہٹانے کا تحریری مطالبہ نمائش شروع ہونے سے تین سے چار گھنٹے پہلے سامنے آیا،انتظامیہ نے ان تصاویر کو ہٹانے کے لیے جگہ کی پالیسی کا حوالہ دیا، جس کے تحت سیاسی مواد کی نمائش پر پابندی ہے،بیکانیر ہاؤس کی انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ بعض تصاویر اس پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، تاہم اس نے عوامی طور پر ہر تصویر کے خلاف اعتراض کی الگ الگ وضاحت نہیں کی،تصاویر ہٹائے جانے کے بعد نمائش کی دیواروں پر خالی جگہیں رہ گئیں، جس نے خود اس تنازعہ کو مزید نمایاں کر دیا
یہ معاملہ اس لیے بھی سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ بیکانیر ہاؤس راجستھان حکومت کے زیرِ انتظام ثقافتی مرکز ہے، جبکہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے،پریانکا گاندھی واڈرا نے اپنے بیٹے کی تصاویر ہٹائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے نوجوانوں کی آواز دبانے کے مترادف قرار دیا،دوسری جانب بی جے پی کی جانب سے اس تنازعہ کو گاندھی خاندان کے سیاسی کردار سے جوڑنے کی بات بھی سامنے آئی ہے،تاہم رَیحان نے اپنی نمائش کو سیاسی مہم قرار دینے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان تصاویر کو کسی دوسرے مقام پر دکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں،یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سمیت مختلف سیاسی معاملات پر مظاہرے ہو رہے ہیں
رَیحان راجیو واڈرا 26 سالہ بصری فنکار اور فوٹوگرافر ہیں،وہ پریانکا گاندھی واڈرا اور کاروباری شخصیت رابرٹ واڈرا کے بیٹے ہیں، جبکہ راہول گاندھی کے بھانجے ہیں،وہ جنگلی حیات کی تصاویر کے ساتھ اسٹریٹ فوٹوگرافی اور عوامی اجتماعات کی عکاسی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں،ان کی پہلی انفرادی نمائش 2021 میں بیکانیر ہاؤس ہی میں منعقد ہوئی تھی،ان کے نام ’’رَیحان‘‘ کے بارے میں بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ عربی الاصل نام ہے جو مسلمانوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی خوشبودار پودے یا خوشبو سے وابستہ ہیں،تاہم صرف نام کی بنیاد پر کسی شخص کے مذہب یا مذہبی شناخت کا تعین نہیں کیا جا سکتا، اور اس نام کے انتخاب کی وجہ کے بارے میں خاندان کی جانب سے کوئی مصدقہ وضاحت سامنے نہیں آئی, تاہم رابرٹ واڈرا نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا وہ ایک سیکولر لبرل ہیں ، ادھر رابرٹ کے خاندانی پس منظر کے بارے میں منظر پہ موجود معلومات کے مطابق رابرٹ کے والد پنجابی ہندو اور والدہ کرسچئین تھیں





