Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عالمی جنگ کے خدشات کے پیش نظر پینٹاگون کا نیا منصوبہ، امریکی فوجی اڈے 90 دن تک بیرونی مدد کے بغیر چلانے کی تیاری

عالمی جنگ کے خدشات کے پیش نظر پینٹاگون کا نیا منصوبہ، امریکی فوجی اڈے 90 دن تک بیرونی مدد کے بغیر چلانے کی تیاری

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے ممکنہ بڑی جنگ کے دوران بجلی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کی صورت میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے،اس منصوبے کے تحت امریکہ کے بڑے فوجی اڈوں کو کم از کم 90 دن تک شہری بنیادی ڈھانچے اور بیرونی رسد پر انحصار کیے بغیر کام جاری رکھنے کے قابل بنایا جائے گا،اس کے ساتھ ہنگامی صورت حال میں عام تجارتی کارخانوں کو دفاعی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے
فاکس نیوز ڈیجیٹل کی 25 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات ’’فورٹریس امریکا‘‘ نامی وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد سائبر حملوں، تخریب کاری، بجلی کی طویل بندش اور عالمی سپلائی چین میں خلل کے باوجود امریکی فوج کی عملی صلاحیت برقرار رکھنا ہے،پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ قومی دفاع کو عام شہری بنیادی ڈھانچے پر منحصر رکھنا ناقابل قبول خطرہ ہے
منصوبے کے تحت بڑے فوجی اڈوں کو بجلی، پانی، ایندھن اور مواصلات کی متبادل سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی،اس مقصد کے لیے چھوٹے قابلِ نقل جوہری ری ایکٹرز، بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج اور مقامی بجلی کے نظام قائم کرنے کی تجویز ہے، جنہیں ضرورت پڑنے پر قومی بجلی گرڈ سے الگ کرکے چلایا جا سکے گا،اس طرح اگر سائبر حملے یا تخریب کاری کے باعث شہری بجلی کا نظام ناکام ہو جائے تو بھی فوجی اڈوں، کمانڈ مراکز اور طیاروں کی کارروائیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی
پینٹاگون کو خدشہ ہے کہ کسی بڑی جنگ میں صرف بجلی کی فراہمی ہی نہیں بلکہ اسلحے، پرزوں، ایندھن، الیکٹرانکس اور طبی سامان کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے،اس لیے منصوبے میں گولہ بارود، ایندھن، اہم معدنیات، الیکٹرانک پرزوں، اسپیئر پارٹس اور طبی سامان کے ذخائر بڑھانے اور اہم دفاعی ضروریات کے لیے کم از کم دو متبادل سپلائی یا پیداواری ذرائع دستیاب رکھنے کی تجویز شامل ہے
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ عام صنعتی کارخانوں کو ہنگامی حالات میں دفاعی پیداوار کے لیے تیار کرنا ہے،پینٹاگون پہلے سے موجود ’’سول ریزرو مینوفیکچرنگ نیٹ ورک‘‘ کے ذریعے ایسے تجارتی کارخانوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے جو ضرورت پڑنے پر فوجی سازوسامان تیار کر سکیں،اس کے لیے پیداوار تبدیل کرنے کے طریقۂ کار، تکنیکی معیار، سائبر سکیورٹی اور سرکاری ٹھیکوں کے انتظامات پہلے سے تیار کیے جائیں گے تاکہ جنگ شروع ہونے کے بعد تیاریوں میں وقت ضائع نہ ہو
شان پارنیل کے مطابق، مستقبل کی بڑی جنگ متعدد محاذوں پر لڑی جا سکتی ہے اور ایسی صورت میں عالمی سپلائی چین ٹوٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ بجلی کے بغیر مواصلات، پانی کی فراہمی، رسد، پیداواری لائنیں اور فوجی کمان کے بنیادی نظام متاثر ہو سکتے ہیں،ان کے بقول، ان خطرات کے لیے منصوبہ بندی جنگ کے دوران نہیں بلکہ پہلے سے کرنا ضروری ہے
منصوبے میں سیٹلائٹ رابطوں، نیویگیشن اور مواصلاتی نظام کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش شامل ہے تاکہ جی پی ایس سگنلز میں مداخلت یا خلائی نظام متاثر ہونے کے باوجود فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے،پینٹاگون کی 6 اکتوبر کی ایک یادداشت میں اس منصوبے کے نفاذ کے لیے متعلقہ حکام کو ذمہ داریاں سونپنے اور اس کی پیش رفت کی نگرانی کے انتظامات بھی بیان کیے گئے تھے
فورٹریس امریکا کا اعلان وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 30 ستمبر کو کیا تھا،یہ ابھی منصوبہ بندی اور نفاذ کے مراحل میں ہے، اس لیے 90 دن تک خود کفالت کو حاصل شدہ صلاحیت نہیں بلکہ مقرر کردہ ہدف سمجھنا چاہیے،اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی بڑے تنازعہ میں امریکی سرزمین کے اندر بنیادی ڈھانچے یا بیرونی رسد میں شدید خلل پیدا ہو تو فوجی اڈے فوری طور پر غیر فعال نہ ہوں اور فوج طویل عرصے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے قابل رہے

قومی خبریں سے مزید