Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تحریک انصاف میں تنظیمی تبدیلی کی خبروں کی تردید، فیصلہ سازی کا اختیار عمران خان کے پاس برقرار

تحریک انصاف میں تنظیمی تبدیلی کی خبروں کی تردید، فیصلہ سازی کا اختیار عمران خان کے پاس برقرار

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کی فیصلہ سازی کے نظام میں بڑی تبدیلی اور کور کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی الگ الگ فورم ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں مختلف ہیں پارٹی کے مطابق ان کمیٹیوں کے اختیارات اور کردار میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی تنظیمی اور سیاسی معاملات دیکھتی ہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی اور اسمبلیوں سے متعلق امور ہیں ان کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی سفارشات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے بھی پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم تمام فیصلوں کا حتمی اختیار پارٹی کے بانی عمران خان کے پاس ہے، جنہوں نے مختلف معاملات کے لیے کمیٹیوں کو اختیارات دے رکھے ہیں
پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کے مطابق پارٹی کے ایک اجلاس میں بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اسے حتمی فیصلے کی شکل نہیں دی گئی ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سیاسی کمیٹی کو فیصلے کرنے کا اختیار دیا تھا، تاہم یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ فیصلوں کو حتمی شکل دینے سے پہلے کور کمیٹی کو اعتماد میں لیا جائے
پنجوتھا کے مطابق کور کمیٹی کے ارکان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے فیصلے کرنے میں وقت لگتا تھا اسی مشکل کو کم کرنے اور معاملات کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے سیاسی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ان کے مطابق ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو اور اہم معاملات غیر ضروری طور پر باہر نہ پہنچیں سیاسی کمیٹی میں پارٹی کی تنظیمی باڈیز کے سربراہان کو شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور رہی ہے
انہوں نے بتایا کہ احتجاجی تحریک اور مذاکرات سے متعلق ذمہ داریاں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دی گئی ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کو سڑکوں پر احتجاجی تحریک کی قیادت کا اختیار سونپا گیا ہے پنجوتھا نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کی منظوری کے بغیر پارٹی کے فیصلہ سازی کے نظام میں کوئی بڑی تبدیلی کیسے کی جا سکتی ہے
پی ٹی آئی نے پارٹی کے قائم مقام سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان سے منسوب اس بیان کی بھی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ مردان میں قیام کرکے گرفتاری سے بچ سکتے تھے، لیکن وہ مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت پشاور گئے۔ پارٹی نے اس بیان سے متعلق رپورٹ کو بھی مسترد کیا
دوسری جانب تحریک انصاف نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مسلسل قید، ملاقاتوں پر پابندیوں اور بنیادی حقوق سے متعلق خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق عمران خان اڈیالہ جیل میں 1,177 دن گزار چکے ہیں، جن میں سے 356 دن تنہائی میں رکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کی قید کی مدت 911 دن سے زیادہ ہو چکی ہے یہ اعداد و شمار پارٹی کے بیان میں پیش کیے گئے ہیں
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانون اور آئین کے تحت حاصل حقوق فراہم کیے جائیں، انہیں اہل خانہ، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات دور کرنے کے لیے ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں پارٹی نے مستند طبی ماہرین سے مکمل معائنے کا مطالبہ بھی کیا
پارٹی نے عمران خان کی بہنوں کی حراست پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ان کی 30 روزہ حراست کی مدت مکمل ہو چکی ہے تو انہیں رہا کیا جانا چاہیے پی ٹی آئی نے دیگر زیر حراست رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی حراست کو سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو سزا دینے یا مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے
پاکستان میں پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ پارٹی کو ایک طرف عمران خان کی قید اور ان تک محدود رسائی کے باعث قیادت اور رابطوں کے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف احتجاج، مذاکرات اور پارلیمانی سیاست کے لیے مختلف رہنماؤں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ایسے حالات میں کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان اختیارات کی تقسیم پارٹی کی حکمت عملی، فیصلوں کی رفتار اور اندرونی مشاورت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے تاہم پارٹی کی تازہ وضاحت کے مطابق کمیٹیوں کے ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کا فیصلہ نہیں ہوا اور حتمی اختیار عمران خان ہی کے پاس ہے

قومی خبریں سے مزید