Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گندم کی قیمت کا بحران، کسان پریشان اور مہنگا آٹا عوام کی پہنچ سے دور

گندم کی قیمت کا بحران، کسان پریشان اور مہنگا آٹا عوام کی پہنچ سے دور

پاکستان میں حکومت نے 2027 کی فصل کے لیے گندم کی اشارتی قیمت 40 کلوگرام کے حساب سے 4,500 روپے مقرر کی ہے، لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ صرف قیمت کا اعلان کافی نہیں، حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی فصل واقعی اس نرخ پر خریدی جائے کسانوں کے مطالبے کے مقابلے میں یہ قیمت 500 روپے کم ہے، جبکہ دوسری جانب آٹے کی بڑھتی قیمتیں غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں
حکومت نے گزشتہ سال گندم کی امدادی قیمت ختم کرکے سرکاری خریداری کا بڑا نظام معطل کر دیا تھا اور اس کی جگہ آزاد منڈی کا نظام متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن کسانوں کو اب بھی اپنی فصل کے مناسب نرخ اور خریدار کی ضمانت حاصل نہیں۔ موجودہ فصل مسلسل تیسری ایسی فصل ہے جس کی کاشت قیمت کی کم از کم ضمانت کے بغیر کی جا رہی ہے
پنجاب میں رواں سال اپریل کے دوران نجی خریداروں کے ذریعے گندم خریدنے کی کوشش کی گئی، جس کے لیے بینکوں کی مالی معاونت سے نجی اداروں کو شامل کیا گیا تاہم، 25 لاکھ ٹن گندم خریدنے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 1 لاکھ 60 ہزار ٹن خریدی جا سکی اور مارکیٹ میں قیمتیں پھر بھی گر گئیں۔ اس تجربے نے ظاہر کیا کہ جب خریداروں کو مناسب مالی وسائل یا خریداری کی پابندی حاصل نہ ہو تو حکومتی اعلان کسانوں کے لیے عملی تحفظ فراہم نہیں کرتا
دوسری جانب صارفین بھی گندم اور آٹے کی مہنگائی سے متاثر ہو رہے ہیں گزشتہ 5 سال میں گندم کی قیمت میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر آٹے کی قیمت پر بھی پڑا ہے شہری علاقوں میں آٹا 160 سے 190 روپے فی کلو فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بنیادی خوراک خریدنا مشکل ہو رہا ہے
سندھ حکومت نے بھی رواں ماہ سرکاری گندم 100 کلو کے تھیلے کے حساب سے 12,500 روپے میں فروخت کرنا شروع کی، جو 40 کلو کے حساب سے 5,000 روپے بنتے ہیں یہ نرخ حکومت کی جانب سے کسانوں کے لیے اعلان کردہ 4,500 روپے فی 40 کلو سے بھی زیادہ ہے اس صورت حال نے گندم کی خریداری، ذخائر اور صارفین کو ریلیف دینے کی حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں
ماہرین کے نزدیک مسئلے کا حل صرف گندم کی قیمت بڑھانے یا کم کرنے میں نہیں، بلکہ کسانوں، تاجروں، فلور ملوں، بینکوں اور حکومت کے درمیان ذمہ داریوں اور خطرات کی منصفانہ تقسیم میں ہے حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کتنی گندم خریدے گی، خریداری کون سا ادارہ کرے گا، اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی اور خریداری کب شروع ہوگی اس کے ساتھ کھاد، ڈیزل، بیج اور دیگر زرعی اخراجات کم کرنے کے اقدامات بھی ضروری ہیں
حکومت کو گندم کی درآمدات کا فیصلہ بھی ملکی پیداوار، دستیاب ذخائر اور حقیقی ضروریات کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے تاکہ غیر ضروری درآمدات سے ملکی کسانوں کو نقصان نہ پہنچے غریب خاندانوں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنا بھی ایک راستہ ہے، جس سے کسانوں کو مناسب قیمت مل سکتی ہے اور صارفین پر مہنگے آٹے کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے
پاکستان میں گندم کی پالیسی کا اصل امتحان یہ ہے کہ کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملے، صارف کو آٹا قابل برداشت نرخ پر دستیاب ہو اور ملک کی غذائی ضروریات محفوظ رہیں صرف امدادی قیمت کا اعلان ان مقاصد کے حصول کے لیے کافی نہیں حکومت کو ایسی خریداری اور تقسیم کا نظام بنانا ہوگا جس میں کسانوں کو خریدار کی ضمانت، صارفین کو مناسب قیمت اور ملک کو مستقبل کی فصل کے لیے مستحکم پیداوار میسر آ سکے

قومی خبریں سے مزید