لولا دا سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، انتہائی دائیں بازو کے فلیویو بولسونارو کو شکست
برازیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنے حریف فلیویو بولسونارو کو شکست دے دی,لولا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ سابق صدر ژائر بولسونارو کے بیٹے فلیویو بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے
یہ برازیل کی انتخابی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے، کیونکہ لولا اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے پہلے مرحلے میں اپنے حریف سے پیچھے رہ گئے تھے،دوسرے مرحلے میں کامیابی کے بعد وہ چوتھی بار ملک کے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالیں گے، اگرچہ ان کی سابقہ دو صدارتی مدتیں مسلسل تھیں اور وہ 2011 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد 2023 میں دوبارہ صدر بنے تھے،ان کی نئی مدت جنوری 2027 میں شروع ہوگی
لولا کی کامیابی کے باوجود ان کے لیے اگلی مدت میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا،انتخابات میں دائیں بازو کی جماعتوں نے کانگریس میں نمایاں طاقت حاصل کی ہے، جس کے باعث بجٹ، معاشی پالیسی اور دیگر اہم معاملات پر لولا کو مخالف جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑیں گے, صدارتی انتخابات کی بحالی کے بعد برازیل میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والا امیدوار دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کر لے،اس عرصے میں دوسرے مرحلے تک پہنچنے والے تمام سات صدارتی انتخابات میں پہلے مرحلے کا فاتح ہی بالآخر صدر منتخب ہوا تھا،لولا دا سلوا نے اس روایت کو توڑ کر تاریخ رقم کی ہے،2026 کے پہلے مرحلے میں فلیویو بولسونارو کو 47.03 فیصد اور لولا کو 45.16 فیصد ووٹ ملے تھے، لیکن دوسرے مرحلے میں لولا نے اپنے حریف کو پیچھے چھوڑ دیا





