بھارت میں مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ، 19 افراد ہلاک، 25 زخمی
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں ہفتے کی شام ہندوؤں کے مذہبی تہوار درگا پوجا کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 19 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں 7 سالہ بچی بھی شامل ہے
یہ حادثہ شمالی کولکتہ کے چورباگان علاقے میں درگا پوجا کے ایک بڑے پنڈال کے قریب پیش آیا،عینی شاہدین کے مطابق اچانک تیز بارش شروع ہونے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ بارش سے بچنے کے لیے پناہ لینے اور باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے،تنگ راستے اور لوگوں کے غیر معمولی رش کے باعث بھگدڑ کی صورت حال پیدا ہوگئی اور متعدد افراد ایک دوسرے کے اوپر گر پڑے
حکام کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے،مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا اعلان کیا ہے،پولیس نے تقریب کے منتظمین، نجی سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر عملے سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے، جبکہ بعض افراد کو حراست میں لیا گیا ہے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا ہے،ریاستی حکومت نے بھی ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے مالی امداد اور سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے
بھارت میں بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران بھگدڑ کے واقعات پہلے بھی متعدد جانیں لے چکے ہیں،کولکتہ کے اس حادثے نے ایک بار پھر بڑے عوامی اجتماعات میں ہجوم کو منظم کرنے، محفوظ راستے فراہم کرنے اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں، بھارت جہاں مودی حکومت کے قیام سے ابتک گزشتہ بارہ سالوں میں مذہبی جنون اور تعصب بڑے پیمانے پر فروغ پارہا ہے ، وہاں ایسے اجتماعات میں اب بھگڈڑ اور اسکے نتیجے میں ہلاکتیں معمول بنتی جارہی ہیں





