بھارت میں مذہبی اجتماع پر بے قابو ٹرک چڑھ دوڑا، 13 افراد ہلاک، 40 زخمی
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں اتوار 18 اکتوبر کی علی الصبح ایک مذہبی اجتماع کے دوران تیز رفتار ٹرک بے قابو ہو کر عقیدت مندوں پر چڑھ دوڑا، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوگئے حادثے کے وقت شیتلا ماتا مندر کے قریب بڑی تعداد میں لوگ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے جمع تھے حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھان سے لدا ہوا ٹرک چھنور کی سمت سے مندر کی جانب آرہا تھا پولیس نے اجتماع کے باعث بھاری گاڑیوں کی آمدورفت محدود کرنے کے لیے راستے پر رکاوٹیں لگا رکھی تھیں اطلاعات کے مطابق ٹرک ایک ڈھلوان پر قابو سے باہر ہوگیا، پولیس کی رکاوٹیں توڑتا ہوا سڑک کے کنارے موجود عقیدت مندوں سے ٹکرا گیا اور آخرکار مندر کے بیرونی دروازے اور دیوار سے جا ٹکرایا
حادثے میں کئی افراد ٹرک کے نیچے دب گئے، جبکہ مندر کے داخلی حصے کو بھی نقصان پہنچا پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک تھی اور انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی تھی ابتدائی تحقیقات میں گاڑی کے بے قابو ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے
بھارت کی صدر دروپدی مرمو نے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ظاہر کیا
یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت میں بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران ہجوم کو محفوظ رکھنے کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اس واقعے سے صرف ایک روز قبل مشرقی بھارت میں ایک ہندو مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک اور تقریباً 25 زخمی ہوگئے تھے ابتدائی اطلاعات کے مطابق اچانک بارش کے باعث لوگوں میں افراتفری پھیلنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا
بھارت میں سڑکوں پر حادثات بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں سڑکوں کے حادثات کے نتیجے میں 183,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 500 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں خراب سڑکیں، گاڑیوں کی ناقص دیکھ بھال اور ڈرائیوروں کی تھکن ایسے عوامل میں شامل ہیں جنہیں حادثات کی اہم وجوہات قرار دیا جاتا ہے گوالیار کا واقعہ ایک بار پھر اس ضرورت کو نمایاں کرتا ہے کہ مذہبی اجتماعات کے قریب ٹریفک کی مؤثر نگرانی، بھاری گاڑیوں پر پابندیوں کا سخت نفاذ اور ہنگامی امداد کے مناسب انتظامات کیے جائیں تاکہ ایسے سانحات سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے





