Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہائے اُس زوُدِ پشیماں کا پشیماں ہونا سینیٹ :وہ انتخابی دوڑ جسے ریپبلکن گھر کی مرغی سمجھتے رہے

ہائے اُس زوُدِ پشیماں کا پشیماں ہونا
سینیٹ :وہ انتخابی دوڑ جسے ریپبلکن گھر کی مرغی سمجھتے رہے

کنساس جہاں انتخابی مقبولیت میں ریپبلکن کو صدیوں سے برتری حاصل رہی ہے، اب پہلی بار اس ریپبلکن ریاست میں بھی ڈیموکریٹس سینیٹ کی ایک ایسی نشست جیتنے کی پوزیشن میں آتے دکھائی دے رہے ہیں ،جسے ریپبلکن قیادت تقریباً محفوظ سمجھتی رہی تھی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں کنساس تقریباً 16 پوائنٹس کے فرق سے جیتی تھی، لیکن اب ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل اور ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہو گیا ہے
ریاست میں انتخابی مہم کے آخری ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے جائزوں نے ریپبلکن حلقوں میں حیرانی کے ساتھ تشویش پیدا کر دی ہے، مارشل کا مقابلہ ہیملٹن سے ہے، جو سیاست میں نئے ہیں لیکن ریاست کے بعض حلقوں میں ایک معروف مذہبی شخصیت سمجھے جاتے ہیں،وہ امریکہ کی سب سے بڑی یونائیٹڈ میتھوڈسٹ کلیسیا کے بانی ہیں اور خود کو اعتدال پسند امیدوار قرار دیتے ہیں،انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت سے بھی فاصلہ رکھا ہے،کئی انتخابی تجزیاتی اداروں نے اس مقابلے کو اب برابر کی ٹکر قرار دیا ہے
سیاسی مبصرین کے مطابق مارشل کے خلاف مختلف تنازعات، کسانوں پر محصولات کے دباؤ، پٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں اور ملک بھر میں ریپبلکنز کے لیے ناموافق سیاسی ماحول نے مل کر ایک ایسا بحران پیدا کیا ہے جس نے کنساس کو ڈیموکریٹس کے لیے قابلِ فتح ریاست بنا دیا ہے،اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہو گئے تو وہ تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ کنساس سے سینیٹ کی نشست جیت سکتے ہیں
کنساس اس وقت ریپبلکنز کے لیے اس لیے بھی اہم ہو گئی ہے کہ امریکی سینیٹ میں پارٹی کی 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی اکثریت داؤ پر لگی ہوئی ہے،ٹرمپ نے ہیملٹن کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید تیز کر دی ہے اور پیر کو وِچیٹا کے قریب ایک شہر میں مارشل کی انتخابی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں،مارشل کا کہنا ہے کہ صدر کی ریاست آمد ان کی کامیابی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے
مارشل حالیہ انتخابی سرگرمیوں میں اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں،کنساس کے شہر ایچیسن میں ایک دیہی اسپتال کے باہر، ڈاکٹر اور میڈیکیئر و میڈیکیڈ سروسز کے منتظم ڈاکٹر مہمت اوز کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں میں ریپبلکن ووٹر دوبارہ ان کے ساتھ آ رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر ہیملٹن کامیاب ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنما چک شومر کو سینیٹ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا
ریپبلکن پارٹی کے بعض عہدیدار ایک سال سے زیادہ عرصے سے مارشل کو خبردار کر رہے تھے کہ انہیں انتخابی مہم کے لیے زیادہ رقم جمع کرنے، مضبوط ٹیم بنانے اور اپنی نشست کو محفوظ سمجھ کر مطمئن نہ ہونے کی ضرورت ہے،پارٹی کے وسائل دوسری سخت انتخابی لڑائیوں میں بھی درکار تھے، اس لیے کنساس میں مارشل کی کمزور تیاری نے قیادت کی تشویش بڑھا دی
اسی ماہ ریپبلکن قیادت سے وابستہ سیاسی ایکشن کمیٹی، سینیٹ لیڈرشپ فنڈ، نے اعلان کیا کہ وہ مارشل کی انتخابی مہم پر 14 ملین ڈالر خرچ کرے گی،یہ وہ رقم تھی جسے پہلے اس انتخابی مقابلے کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ نہیں تھا،ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے والی سینیٹ میجورٹی پی اے سی نے بھی میدان میں اترتے ہوئے 5 ملین ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا
وفاقی انتخابی دستاویزات کے مطابق جنوری سے اب تک ہیملٹن کی مہم نے 13.5 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، جبکہ مارشل کی مہم صرف 2.2 ملین ڈالر اکٹھے کر سکی ہے،مزید تشویش کی بات یہ تھی کہ 30 ستمبر تک مارشل کی انتخابی مہم کے ریکارڈ میں تنخواہ پر کام کرنے والا کوئی ملازم درج نہیں تھا
مارشل کے چیف آف اسٹاف برینٹ رابرٹسن تقریباً ایک ہفتہ قبل تک انتخابی مہم کے انتظامات سنبھال رہے تھے،تاہم، جب مہم کو احساس ہوا کہ اسے تجربہ کار مشیروں اور مزید عملے کی ضرورت ہے تو رابرٹسن نے گزشتہ ہفتے کے ہفتے کے روز ریپبلکن حکمتِ عملی ساز کرس گرانٹ سے رابطہ کیا،ابتدائی اقدامات میں ایسے اشتہارات شامل تھے جن میں مارشل کے طبی پیشے کے تجربے کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ انتخابی فنڈز کو زیادہ مؤثر طریقے سے خرچ کرنے کی کوشش بھی شروع کی گئی
رابرٹسن نے اضافی مدد حاصل کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا بالکل واضح ضرورت تھی،ان کے مطابق ٹرمپ کی آمد کے ساتھ کنساس میں انتخابی مہم کی پوری مشینری سرگرم ہو چکی ہے
مارشل کے مخالف امیدوار ہیملٹن اور ان کے حامیوں کے اشتہارات میں سینیٹر سے متعلق متعدد تنازعات کو نمایاں کیا جا رہا ہے،نیویارک ٹائمز نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ماہرِ امراضِ نسواں اور زچگی کے ڈاکٹر مارشل نے 700 سے زیادہ مریضوں کے خلاف بلوں کی وصولی کے لیے مقدمات دائر کیے تھے،بعض بلوں کی رقم محض 101 ڈالر تھی
گزشتہ ہفتے ایم ایس ناؤ اور غیر منافع بخش صحافتی ادارے کنساس ریفلیکٹر کی مشترکہ تحقیق میں الزام لگایا گیا کہ مارشل اور رابرٹسن نے انتخابی مہم کے لیے کانگریس کے عملے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے استعمال کیے،اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ کانگریس کے قواعد اور وفاقی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی ہو سکتی ہے
وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کو جب مارشل سے سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق رپورٹ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اسے مخالف امیدوار کا ایک اور جھوٹ قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ مخالفین مایوسی کے عالم میں ایسی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ان کی اپنی ٹیم تمام قواعد کی پابندی کرتی ہے،مارشل اس سے پہلے مریضوں کے خلاف مقدمات کی رپورٹ کو بھی اپنے خلاف کردار کشی کی مہم قرار دے چکے ہیں
اسی دوران ایک بیکری کے مالک نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ مارشل کی انتخابی مہم نے 2020 کی ایک تقریب کے لیے منگوائی گئی مٹھائیوں اور بسکٹوں کا بل ادا نہیں کیا تھا،یہ پوسٹ تیزی سے پھیل گئی،مارشل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس معاملے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کو 2020 کے اس غیر ادا شدہ بل کا علم نہیں تھا اور بعد میں بیکری کے مالک کو اصل رقم سے دوگنی ادائیگی کر دی گئی
ہیملٹن سیاست میں نئے ضرور ہیں، لیکن کنساس کے بعض شہریوں کے لیے ان کا نام اجنبی نہیں،وہ 30 سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سے کئی ریاست بھر میں بائبل کے مطالعے کے حلقوں میں پڑھائی جاتی ہیں،وہ خود کو ایک ایسا امیدوار قرار دیتے ہیں جو روایتی سیاسی خانوں میں فٹ نہیں ہوتا
لنڈسبرگ میں ایک انتخابی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیملٹن نے کہا کہ وہ سیاسی انتہاؤں کے ووٹوں پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ خود کو ایک ’’بنیاد پرست اعتدال پسند‘‘ سمجھتے ہیں،ان کے مطابق وہ بعض معاملات میں لبرل قدامت پسند اور بعض میں قدامت پسند لبرل ہیں، اور یہ انحصار کرتا ہے کہ مسئلہ کیا ہے اور ہفتے کا کون سا دن ہے
ہیملٹن نے ٹرمپ پر تنقید کی ہے اور اپنی ہی جماعت کی روایتی قیادت سے بھی اختلاف کیا ہے،انہوں نے چک شومر کو کنساس میں ڈیموکریٹس کے لیے سیاسی بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیں تو پارٹی کو نئی قیادت کی ضرورت ہو گی
اس کے برعکس مارشل اور ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ ہیملٹن ایک قدامت پسند ریاست میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خود کو اعتدال پسند ظاہر کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے نظریات لبرل ہیں،ریپبلکنز کی حمایت کرنے والی ایک سیاسی ایکشن کمیٹی کے اشتہار میں ہیملٹن کے 2020 کے مذہبی خطبات کے حصے شامل کیے گئے، جن میں سیاہ فام افراد کی زندگیوں سے متعلق تحریک اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوعات پر ان کے خیالات دکھائے گئے،ہیملٹن کی مہم نے ان تدوین شدہ ویڈیوز کو گمراہ کن قرار دیا ہے
اس سیاسی کشمکش نے بعض ووٹروں کو بھی الجھن میں ڈال دیا ہے،ہچنسن میں چرچ کی ایک ریپبلکن سیکریٹری ڈیانا گیوئی نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہیملٹن منتخب ہو کر بہت زیادہ لبرل ثابت ہوں گے، لیکن مارشل کو ووٹ دینا بھی ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وہ ووٹ ڈالنے ہی نہ جائیں۔
انتخابی مہم کے دوران ہیملٹن ان مذہبی حلقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں جو انہیں منبر سے جانتے ہیں، جبکہ وہ غیر مذہبی ووٹروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ایلس ورتھ کے ایک بزرگوں کے مرکز میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ سینیٹ کے ’’مذہبی پیشوا‘‘ بننے کے لیے انتخاب نہیں لڑ رہے
انہوں نے گلوبل میتھوڈسٹ چرچ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مخاطب کیا،یہ چرچ 2022 میں ان کے فرقے سے الگ ہوا تھا، کیونکہ ہم جنس شادیوں کو تسلیم کرنے اور ہم جنس پرست مذہبی رہنماؤں کی تقرری جیسے معاملات پر اختلافات تھے،ہیملٹن ان دونوں امور کی حمایت کرتے ہیں،تقریب میں انہوں نے کہا کہ اگر حاضرین میں گلوبل میتھوڈسٹ چرچ سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں تو وہ ان سے محبت کرتے ہیں
تاہم، ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں نے ہیملٹن کے مذہبی نظریات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ستمبر میں اولاتھے میں ایک جلسے کے دوران وینس نے مقامی فخر مارچوں میں چرچ کی شرکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عیسائیت نہیں بلکہ مذہب کے لباس میں بائیں بازو کی انتہا پسندی ہے
ہیملٹن نے جواب میں کہا کہ جب کسی کے عقیدے کو نشانہ بنایا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین مایوسی کا شکار ہیں
یوں کنساس کی وہ سینیٹ نشست، جسے ریپبلکنز کچھ عرصہ پہلے تک محفوظ سمجھ رہے تھے، اب قومی سیاست کی ایک اہم آزمائش بن گئی ہے،مارشل کو اب نہ صرف ڈیموکریٹ امیدوار کے بڑھتے ہوئے انتخابی وسائل اور مقبولیت کا سامنا ہے بلکہ اپنے گرد جمع ہونے والے تنازعات کا دفاع بھی کرنا پڑ رہا ہے،دوسری طرف ہیملٹن خود کو اعتدال پسند متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور ایسے ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو روایتی جماعتی وابستگی سے ہٹ کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں،اگر یہ مقابلہ اسی طرح سخت رہا تو کنساس میں نتیجہ امریکی سینیٹ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید