Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایلون مسک کی سائنسی کامیابیاں برقرار، مگر سیاست نے عالمی شہرت اور مقبولیت کو متاثر کر دیا

ایلون مسک کی سائنسی کامیابیاں برقرار، مگر سیاست نے عالمی شہرت اور مقبولیت کو متاثر کر دیا

واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شامل ایلون مسک ایک بار پھر اپنی خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست میں ان کی سرگرم شمولیت اور دائیں بازو کے سیاسی نظریات کی حمایت نے ان کی سائنسی کامیابیوں کے بارے میں عوامی تاثر کو تبدیل کر دیا ہے ان کی ٹیکنالوجی کو اب بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، تاہم ان کی سیاسی سرگرمیاں ان کامیابیوں کی پذیرائی پر اثر انداز ہو رہی ہیں
28 ستمبر کو مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے بڑے خلائی راکٹ اسٹار شپ نے پہلی مرتبہ مدار تک پہنچ کر 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس تعینات کیے اور اس کے بعد بحرالکاہل میں اتر گیا یہ کامیابی مسک کے مریخ پر انسانی آبادکاری کے منصوبے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے اسٹار شپ کو مستقبل میں انسانوں اور سامان کو خلا میں لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اس منصوبے کی کامیابی اسپیس ایکس کے خلائی سفر کو عام کرنے اور زمین سے باہر انسانی موجودگی بڑھانے کے عزائم کے لیے اہم ہے
مسک کی سرگرمیاں صرف خلا تک محدود نہیں ہیں ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس بھی مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور سیاسی مباحث کے لیے ایک اہم جگہ بن چکا ہے دوسری جانب یوکرین نے اپنی فوج کے زیر استعمال سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اسٹارشیلڈ میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی ہے اس معاملے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ جب کسی نجی کاروباری شخص کی کمپنی جنگی حالات میں اہم مواصلاتی خدمات فراہم کرتی ہو تو اس کے فیصلوں کے عالمی سیاست اور فوجی کارروائیوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
مسک کی سیاسی سرگرمیوں پر تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حکومت کے ابتدائی مہینوں میں سرکاری اخراجات کم کرنے کے منصوبے سے وابستہ ہوئے سرکاری کارکردگی اور اخراجات میں کمی کے محکمے ڈوج کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے وفاقی اداروں کے اخراجات گھٹانے کی مہم چلائی فروری 2025 میں ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی کے تحفے میں دیے گئے چین سا کو اسٹیج پر لہرا کر انہوں نے سرکاری اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کی علامتی تشہیر بھی کی
اس مہم کے دوران مختلف وفاقی اداروں میں ملازمتیں کم کرنے اور اخراجات محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ان اقدامات کے نتیجے میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی، یو ایس ایڈ، کے بیشتر کام متاثر ہوئے اور اس کے امدادی پروگراموں کو شدید نقصان پہنچا ان تبدیلیوں سے سرکاری ملازمتوں میں مجموعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں کمی بھی منسلک کی گئی ناقدین کے مطابق سرکاری اخراجات کم کرنے کے نام پر کیے گئے ان فیصلوں کے اثرات صرف امریکی ملازمین تک محدود نہیں رہے بلکہ بیرون ملک امدادی پروگراموں اور ان سے مستفید ہونے والے افراد تک بھی پہنچے
مسک کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی تنازع کا باعث بنی ہوئی ہیں ان کے پلیٹ فارم ایکس پر تارکین وطن مخالف خیالات اور دائیں بازو کے متنازع نظریات سے متعلق مواد کے ساتھ خلائی راکٹوں، مصنوعی ذہانت اور ٹیسلا کی خودکار ٹیکسیوں کے بارے میں معلومات بھی سامنے آتی ہیں اس صورت حال نے ان کے مداحوں اور ناقدین کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کیا ہے جہاں حامی انہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل تبدیل کرنے والا کاروباری شخص قرار دیتے ہیں، وہیں ناقدین ان کی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی بیانات کے اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں
ٹرمپ اور مسک کے تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے مئی 2025 میں ڈوج سے مسک کی علیحدگی کے بعد دونوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے تھے، لیکن اب ان کے تعلقات دوبارہ بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 8 اکتوبر 2026 کو ٹرمپ نے مسک کو امریکہ کا اعلیٰ سائنسی اعزاز پیش کیا اور انہیں قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے جدید دور کا تھامس ایڈیسن کہا اس اعزاز کو مسک کی سائنسی اور کاروباری کامیابیوں کی حکومتی سطح پر پذیرائی کے طور پر دیکھا گیا، تاہم اس نے ان کی سیاسی وابستگیوں پر جاری بحث کو بھی ختم نہیں کیا
امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل مسک کی سیاسی مالی معاونت بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے دستیاب رپورٹ کے مطابق وہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہمات پر کم از کم 276 ملین ڈالر خرچ کر چکے ہیں، جن میں سے 158 ملین ڈالر ٹیکساس میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم کے لیے مختص کیے گئے ہیں ٹیکساس ان کی آبائی ریاست ہے اور وہاں ریپبلکن امیدوار کو انتخابی مقابلے میں مشکلات کا سامنا بتایا گیا ہے اس بھاری مالی معاونت نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مسک کی سیاسی سرگرمیاں ان کے نظریاتی مؤقف کا اظہار ہیں یا ان کاروباری مفادات کے تحفظ سے بھی وابستہ ہیں جن کا انحصار امریکی حکومت کے فیصلوں پر ہے
مسک کے بارے میں بنائی گئی ایک نئی دستاویزی فلم بھی اسی بحث کو نمایاں کرتی ہے آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز الیکس گبنی کی تقریباً 4 گھنٹے طویل فلم ان کی زندگی، کاروباری کامیابیوں، سیاسی تعلقات اور متنازع عوامی کردار کا جائزہ لیتی ہے مسک کی پہلی اہلیہ جسٹن مسک نے فلم سے متعلق گفتگو میں انہیں ایسا شخص قرار دیا جو خطرات مول لیتا ہے اور مشکل حالات میں راستہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے تاہم ان کے مطابق مسک کے بعض غیر معمولی اقدامات کے پیچھے ایسے مقاصد بھی ہو سکتے ہیں جو فوری طور پر واضح نہیں ہوتے
مسک کے کاروباری مفادات اور امریکی حکومت کے درمیان تعلق بھی اس معاملے کا اہم پہلو ہے اسپیس ایکس کو امریکی خلائی ادارے ناسا اور محکمہ دفاع کے معاہدوں سے اربوں ڈالر سالانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ ٹیسلا کی خودکار ٹیکسیوں کے منصوبے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ امریکی قوانین اور متعلقہ ادارے بغیر ڈرائیور گاڑیوں کو سڑکوں پر چلانے کی کتنی اجازت دیتے ہیں یوں مسک کی کمپنیوں کی ترقی میں حکومتی معاہدوں، ضابطوں اور پالیسی فیصلوں کا نمایاں کردار ہے
یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے لیے ان کی بھاری مالی معاونت کو بعض ناقدین محض سیاسی نظریات کی حمایت کے بجائے کاروباری مفادات کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں تاہم ان کی مالی معاونت کے اصل محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے براہ راست شواہد ضروری ہیں
ایلون مسک کی مثال اس وسیع تر سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ جب ٹیکنالوجی، دولت اور سیاسی اثر و رسوخ ایک ہی شخص کے ہاتھ میں جمع ہو جائیں تو اس کے فیصلوں کے معاشرے اور عالمی معاملات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور برقی گاڑیوں کے شعبوں میں کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سرکاری پالیسیوں، انتخابی مہمات اور عالمی تنازعات میں ان کا کردار بھی ان کی عوامی شناخت کا حصہ بن چکا ہے اب ان کی شخصیت کو صرف ایک غیر معمولی موجد یا کاروباری رہنما کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کے سیاسی فیصلوں اور کاروباری مفادات پر بھی پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید