Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں انتخابات: نسل پرستی اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز سیاست،خطے میں اگلا منظر نامہ مذید خوفناک ہونے کا خدشہ

اسرائیل میں انتخابات: نسل پرستی اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز سیاست،خطے میں اگلا منظر نامہ مذید خوفناک ہونے کا خدشہ

یروشلم: اسرائیل میں رواں ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ممکنہ عروج نے ملک کی سیاست میں نسل پرستی، فلسطینیوں کے اخراج اور عرب اسرائیلی شہریوں کے حقوق سے متعلق بحث کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے،برطانوی اخبار گارڈین کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں یا نہیں، نئی پارلیمان کے پہلے سے زیادہ دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
تقریباً چار دہائیاں قبل اسرائیلی سیاست میں انتہائی دائیں بازو کے یہودی مذہبی رہنما میر کہانے نے پارلیمان میں ایک نشست حاصل کی تھی،ان کے قوم پرستانہ اور نسلی بنیادوں پر امتیاز کے حامی نظریات کے خلاف دیگر ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کیاتھا، قانون سازوں نے ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت انہیں دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا،جب کہانے پارلیمان میں تقریر کے لیے کھڑے ہوتے تو کئی ارکان ایوان سے باہر چلے جاتے تھے اور ان کی تجاویز پر بحث روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتے تھے
کہانے کے نظریات میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی، ساحلوں کو یہودیوں اور غیر یہودیوں کے لیے الگ کرنے اور یہودیوں کے غیر یہودیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو جرم قرار دینے جیسے اقدامات شامل تھے،ان تجاویز کو نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے
گارڈین کے مطابق، آج کہانے کے سیاسی نظریات کے وارث سمجھے جانے والے گروہ اسرائیلی پارلیمان میں اپنی نمائندگی بڑھانے کی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں،صورت حال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسرائیل کی تاریخی لیبر پارٹی، جس سے یتزحاق رابین، شمعون پیریز اور گولڈا مئیر جیسے اہم سیاسی رہنما وابستہ رہے، اب اپنی سابقہ سیاسی قوت کھو چکی ہے
رپورٹ میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی انتخابی مہم کو انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے،بن گویر نے رواں ہفتے ایک انتخابی جلسے میں فلسطینیوں کی نسلی بنیادوں پر بے دخلی کے مطالبات کیے اور فلسطینی قیدیوں کو بھوکا رکھنے کے معاملے پر مذاق بھی کیا،انہوں نے 1998 میں اپنی اس سزا کا بھی فخر کے ساتھ ذکر کیا جو انہیں ایسی گاڑیوں پر لگائے جانے والے اسٹیکرز کے معاملے میں ہوئی تھی جن پر لکھا تھا: ’’ربی کہانے درست تھے”
یہ انتخابی ماحول اسرائیل میں سیاسی طاقت کے ممکنہ نئے توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں فلسطینیوں کے بارے میں سخت گیر مؤقف رکھنے والے رہنما سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہو رہے ہیں،اس رجحان کے اثرات صرف اسرائیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فلسطینی علاقوں، اسرائیل کے عرب شہریوں کے حقوق اور خطے میں امن کی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں
گارڈین کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیلی انتخابات میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیتن یاہو حکومت برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ نئی پارلیمان میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو کتنی سیاسی طاقت حاصل ہوتی ہے اور ان کے نظریات حکومتی پالیسیوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں

قومی خبریں سے مزید