ٹرمپ انتظامیہ نے 2026 میں تقریباً تمام پناہ گزین صرف ایک ملک سے قبول کیے، 16 ہزار سے زائد جنوبی افریقی سفید فام شہری امریکہ پہنچے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2026 میں مجموعی طور پر 16,292 پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دی، جن میں سے 16,287 کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا۔ باقی پانچ پناہ گزین افغانستان سے آئے،اس طرح پورے سال امریکہ میں قبول کیے جانے والے پناہ گزینوں میں تقریباً تمام جنوبی افریقہ کے سفید فام شہری تھے
امریکی مالی سال یکم اکتوبر 2025 سے 30 ستمبر 2026 تک جاری رہا،خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں مالی سال 2026 کے لیے پناہ گزینوں کی تعداد کی حد 7,500 مقرر کی تھی، لیکن مئی 2026 میں ہنگامی اعلان کے ذریعے اسے بڑھا کر 17,500 کر دیا،اس اضافے کا بنیادی مقصد جنوبی افریقہ کے سفید فام افریکنر باشندوں کو امریکہ میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرنا تھا
یہ تعداد سابقہ امریکی انتظامیہ کے ادوار میں قبول کیے جانے والے پناہ گزینوں کے مقابلے میں اب بھی خاصی کم ہے،تاہم پناہ گزینوں کے انتخاب میں جنوبی افریقہ کے سفید فام باشندوں کو ترجیح دینے کے فیصلے نے امتیازی سلوک اور امریکی پناہ گزین پالیسی کے معیار پر بحث کو جنم دیا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں لاکھوں دوسرے افراد بھی جنگ، ظلم و ستم اور عدم تحفظ کے باعث پناہ کے منتظر ہیں
صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کے سفید فام افریکنر باشندوں کے لیے پناہ گزینوں کی تعداد بڑھانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ظلم و ستم کا سامنا ہے،ان کے اس مؤقف کا تعلق جنوبی افریقہ میں سفید فام باشندوں کی منظم نسل کشی کے دعوے سے بھی رہا ہے، جسے متعدد حلقوں نے بے بنیاد قرار دیا ہے
مالی سال 2027 کے لیے بھی امریکی انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 17,500 مقرر کی ہے،اعلان کے مطابق ان میں اکثریت جنوبی افریقہ کے افریکنر باشندوں کی ہو سکتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پناہ گزین پالیسی میں اس مخصوص گروہ کو آئندہ بھی ترجیح حاصل رہے گی





