مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ، اسرائیل اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے لگی
تل ابیب: مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتے کے روز یورپی سفارت کاروں کے ایک گروپ پر حملہ کر دیا،مقبوضہ علاقے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات اسرائیل اور مغربی ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر رہے ہیں
اسرائیلی فوج اور وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے مسیحی آبادی کے اکثریتی گاؤں طیبہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کی اور اپنے بیانات میں تشدد کے لیے اسرائیلی بلوائیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا،اسرائیلی حکام کے مطابق واقعے کی پولیس تحقیقات جاری ہیں
بیلجیئم کے نائب وزیراعظم میکسیم پریوو کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والوں میں بیلجیئم، فرانس اور پولینڈ کے سفارت کاروں کے علاوہ کیتھولک نمائندے اور فلسطینی بھی شامل تھے،ان کے مطابق فرانس کے ایک میئر پر بھی حملہ کیا گیا جبکہ بیلجیئم کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ سفارت کاروں کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے، تاہم انہوں نے واقعے کے بارے میں ’’قبل از وقت نتائج اخذ کرنے‘‘ سے خبردار بھی کیا،نیتن یاہو کی حکومت بارہا یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد سے متعلق اطلاعات کو اسرائیل کی ساکھ خراب کرنے کی مہم کے تحت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے
نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی میئر برنارڈ بودو ہیں، جو شمالی فرانس کے قصبے اونوئے ایامری کے میئر ہیں





