البانیہ میں مسلسل 5ویں روز حکومت مخالف مظاہرے پرتشدد، پولیس کی ربڑ کی گولیاں، 167 افراد گرفتار
یورپی ملک البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے مسلسل 5ویں روز بھی پرتشدد رہے ہفتے 17 اکتوبر کو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلی مرتبہ ربڑ کی گولیاں چلائیں، جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھر، آتش گیر بوتلیں، دھاتی اشیا اور آتش بازی کے آلات پھینکے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے سڑکوں پر دھواں پھیل گیا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے
مظاہروں میں ہائی اسکول اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہے طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے حالات بہتر نہیں، فیسیں بہت زیادہ ہیں اور نوجوانوں کو روزگار کے مناسب مواقع میسر نہیں۔ ان مطالبات کے ساتھ بدعنوانی، حکومتی وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور وزیراعظم کے طویل اقتدار کے خلاف غصہ بھی احتجاج کی بڑی وجہ بن چکا ہے
پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس، پانی کی توپیں اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ ربڑ کی گولیاں چلنے کے بعد بعض مظاہرین کے سر، آنکھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں آنے کی اطلاعات سامنے آئیں وزارت صحت کے مطابق ہفتے کے روز 9 مظاہرین اور 4 پولیس اہلکاروں کو طبی امداد دی گئی پولیس کے سربراہ اسکندر ہیتا نے کہا کہ ربڑ کی گولیاں محدود پیمانے پر استعمال کی گئیں اور صرف منظور شدہ آلات استعمال کیے گئے
پولیس کے مطابق 5 روز کے دوران 167 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ 388 افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی گئی پولیس سربراہ نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران 132 پولیس اہلکار زخمی ہوئے دوسری جانب 7 پولیس افسران کو اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات پر معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
ان مظاہروں کا آغاز منگل سے ہوا، لیکن طلبہ کی شمولیت کے بعد تحریک نے زیادہ وسیع شکل اختیار کر لی مظاہرین نے وزارت تعلیم کی عمارت کے باہر احتجاج کیا اور ایک جلتا ہوا سوٹ کیس وزارت کے احاطے میں پھینکا۔ اس اقدام کو ملک چھوڑنے کے بجائے اپنے وطن میں رہ کر حالات بدلنے کی خواہش کی علامت قرار دیا گیا
صحافت کے طالب علم سنان بیلا نے کہا کہ نوجوان حکومت کی خاموشی اور عوامی شکایات کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ان کے مطابق نوجوان صرف اپنے مستقبل کے لیے نہیں بلکہ اپنے والدین کی مشکلات کے لیے بھی احتجاج کر رہے ہیں
اس تحریک کے پس منظر میں ایک متنازع سیاحتی منصوبہ بھی شامل ہے رواں سال کے دوران البانیہ کے جنوبی ساحل پر ایک پرتعیش سیاحتی منصوبے کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے، جس کا تعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے وابستہ سرمایہ کاری سے بتایا جاتا ہے اس منصوبے پر ماحولیاتی تحفظ اور زمین کی ملکیت کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے تھے وقت گزرنے کے ساتھ احتجاج کا دائرہ وسیع ہوا اور اس میں بدعنوانی، روزگار، تعلیم اور حکومتی جواب دہی کے مطالبات بھی شامل ہو گئے
وزیراعظم ایڈی راما 2013 سے اقتدار میں ہیں اور گزشتہ سال انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی چوتھی مدت پوری کر رہے ہیں انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت طلبہ کے تحفظات سننے کے لیے تیار ہے، لیکن تشدد اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر الزام لگایا کہ وہ بدامنی کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاہم مخالفین کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے
البانیہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے کوششیں کر رہا ہے، اس لیے سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہیں مسلسل مظاہرے حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گئے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ احتجاج کے نتیجے میں حکومت کی پالیسیوں میں کتنی تبدیلی آئے گی
تیرانا کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ جب تعلیم، روزگار، مہنگائی اور بدعنوانی سے متعلق عوامی شکایات طویل عرصے تک حل نہ ہوں تو احتجاج ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے نوجوانوں کے مطالبات سنے، جبکہ مظاہرین کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے مطالبات کے اظہار کے دوران شہریوں کی جانوں اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں





