انڈونیشیا کے جنگلات میں آگ سے جنوب مشرقی ایشیا زہریلی دھند کی لپیٹ میں، خطے میں بلند ترین خطرے کا انتباہ جاری
جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک انڈونیشیا کے جنگلات اور دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں ہیں فضائی آلودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ علاقائی موسمیاتی مرکز نے خطرے کے انتباہ کی بلند ترین سطح 3 نافذ کر دی ہے اس بحران سے انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور اور مشرقی تیمور میں معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں، اسکول بند کیے جا رہے ہیں اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے
آسیان کے خصوصی موسمیاتی مرکز کے مطابق دھوئیں کے پھیلاؤ اور مسلسل خراب فضائی حالات کے باعث جنوبی آسیان خطے کے لیے تیسرے درجے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے یہ 4 درجوں پر مشتمل نظام میں سب سے بلند سطح ہے، جو اس وقت نافذ کی جاتی ہے جب متعدد دنوں تک درمیانی یا شدید دھند برقرار رہے اور ہوا کے ذریعے آلودگی سرحدیں عبور کرکے پڑوسی ممالک کو بھی متاثر کرنے لگے
اس بحران کا مرکز انڈونیشیا کے جزائر سماٹرا اور بورنیو کے بعض علاقے ہیں، جہاں جنگلات اور پیٹ لینڈز یعنی نامیاتی مادے سے بھرپور دلدلی زمینوں میں آگ لگی ہوئی ہے ان زمینوں میں جمع نامیاتی مادہ آگ لگنے کے بعد زیر زمین بھی سلگتا رہ سکتا ہے، جس سے اسے بجھانا مشکل ہو جاتا ہے اور دھواں طویل عرصے تک فضا میں پھیلتا رہتا ہے
اس سال غیر معمولی خشک موسم نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے موسمیاتی ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات سے بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کا امکان بڑھا ہے، جس سے جنگلات میں آگ لگنے اور اس کے پھیلنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہوئے ہیں علاقائی موسمیاتی مرکز نے بھی اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران خطے کے کئی حصوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں لوگ ماسک پہن کر باہر نکل رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ دھند نے روزمرہ سرگرمیاں متاثر کر دی ہیں اور باہر ورزش کرنا یا سائیکل چلانا مشکل ہو گیا ہے بعض افراد نے انڈونیشیا میں آگ پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ وہاں سے اٹھنے والا دھواں سرحد پار کرکے پڑوسی ممالک کی فضا کو بھی آلودہ کر رہا ہے
سنگاپور میں بھی فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ 17 اکتوبر کو آلودہ ترین بڑے شہروں کی عالمی درجہ بندی میں سنگاپور دوسرے اور کوالالمپور تیسرے نمبر پر تھے، جبکہ دونوں شہروں میں فضائی معیار کے اشاریے انتہائی خطرناک حالات کی نشاندہی کر رہے تھے تاہم ایسی درجہ بندیاں وقت اور پیمائش کے مقام کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں
انڈونیشیا میں بھی لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے وسطی کالیمانتان کے شہر پالنگکارایا میں رہائشیوں نے بتایا کہ دھوئیں سے آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے مقامی مکینوں کے مطابق کاروبار متاثر ہونے سے آمدنی بھی کم ہو رہی ہے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے گھر بیٹھنا آسان نہیں، کیونکہ کام نہ کرنے کی صورت میں ان کی روزانہ کی کمائی ختم ہو جاتی ہے
انڈونیشیا کی قدرتی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی سماٹرا کے ایک بڑے ہوائی اڈے کے قریب دھند کم کرنے کی کوشش میں طیارے کے ذریعے 2.4 ٹن خشک برف فضا میں چھوڑی گئی حکام کے مطابق دھوئیں سے حد نگاہ کم ہونے کے باعث ہوائی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں تاہم صرف خشک برف کا استعمال جنگلات اور زیر زمین سلگتی آگ کو بجھانے کا متبادل نہیں ہے
اس بحران کے علاقائی سیاسی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں ملائیشیا میں شہریوں اور بعض حلقوں نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام اور ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف کارروائی میں تیزی لائے دوسری جانب انڈونیشیا کو وسیع علاقوں میں آگ بجھانے، متاثرہ آبادی کی حفاظت اور جنگلات کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں
جنوب مشرقی ایشیا میں سرحد پار فضائی آلودگی کا مسئلہ نیا نہیں 2015 میں بھی جنگلات اور دلدلی زمینوں کی آگ سے خطے میں شدید دھند پھیلی تھی، جس نے صحت، تعلیم، سیاحت اور کاروبار کو نقصان پہنچایا تھا موجودہ بحران نے دوبارہ یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگلات کو جلانے، زمین صاف کرنے اور آگ کی روک تھام کے قوانین پر کس حد تک مؤثر عمل درآمد ہو رہا ہے
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا مستقل حل صرف آگ بجھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے جنگلات میں غیر قانونی آگ لگانے کے خلاف کارروائی، پیٹ لینڈز میں پانی کی مناسب سطح برقرار رکھنا، متاثرہ علاقوں کی نگرانی اور پڑوسی ممالک کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ ضروری ہے آسیان کے مشترکہ ہنگامی طریقہ کار کے تحت متاثرہ ممالک کو آگ بجھانے اور دھوئیں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعاون کرنا ہوتا ہے
فی الحال خطے کے شہریوں کی نظریں بارشوں پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ مسلسل بارش آگ بجھانے اور فضا سے دھواں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے تاہم جب تک جنگلات اور دلدلی زمینوں میں لگی آگ پر قابو نہیں پایا جاتا اور خشک موسم برقرار رہتا ہے، زہریلی دھند کے خطرے کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی





