پھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے بعد پوپ لیو چہار دہم ویٹیکن واپس پہنچ گئے، صحت یابی پر عقیدت مندوں نے خیرمقدم کیا
رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہار دہم پھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے 4 دن بعد ہفتے کو روم کے جیمیلی ہسپتال سے فارغ ہو کر ویٹیکن واپس پہنچ گئے۔ 71 سالہ پوپ ہسپتال سے نکلتے وقت مسکراتے ہوئے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دیتے اور اپنے معالجین سے مصافحہ کرتے دکھائی دیے۔ ان کی واپسی پر وہاں موجود عقیدت مندوں نے خوشی کا اظہار کیا
پوپ لیو کو 13 اکتوبر کو پھیپھڑوں میں سرطانی رسولی نکالنے کے لیے آپریشن کی غرض سے جیمیلی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکال دیا، جہاں رسولی موجود تھی طبی معائنے کے دوران اس رسولی کی تشخیص پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک عام قسم، ایڈینوکارسینوما، کے طور پر ہوئی
ویٹیکن کے مطابق آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا اور اس دوران کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ، سینے کے ایکسرے اور مجموعی طبی حالت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دی طبی ٹیم نے بتایا کہ پوپ اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں خود انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں اور ان کی صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے
ہسپتال سے روانگی کے وقت پوپ نے وہاں موجود طبی عملے اور حکام سے ملاقات کی انہوں نے یوکرین سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ بچی سے بھی گفتگو کی جو کینسر کے علاج کے لیے اٹلی میں موجود تھی بچی نے پوپ کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اس ملاقات نے وہاں موجود لوگوں کی توجہ حاصل کی۔
پوپ کی بیماری کی خبر نے دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب کیتھولک مسیحیوں میں تشویش پیدا کر دی تھی پوپ لیو کو 8 مئی 2025 کو رومن کیتھولک چرچ کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا ان کی نسبتاً کم عمر اور مصروف معمولات کے باعث ان کی صحت کو چرچ کے مستقبل اور قیادت کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے
ویٹیکن نے بتایا کہ پوپ اتوار کو سینٹ پیٹرز اسکوائر کے سامنے واقع اپنے رہائشی محل کی کھڑکی سے روایتی اینجلس دعا کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ڈاکٹروں نے ان کی صحت یابی کی نگرانی جاری رکھنے پر زور دیا ہے ان کے کینسر کی مکمل نوعیت اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، اس لیے طویل مدتی طبی صورت حال کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا
پوپ لیو نے ہسپتال میں قیام کے دوران بھی محدود دفتری امور جاری رکھے جمعے کو انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور یوکرین کے علاقے اولیشکی میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہسپتال میں قیام کے دوران انہوں نے طبی عملے کے ساتھ عبادت بھی کی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔
اب ان کی توجہ صحت یابی اور آئندہ مصروفیات پر ہے پوپ کا 6 سے 17 نومبر تک جنوبی امریکا کے دورے کا منصوبہ ہے، جس میں یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیرو شامل ہیں ان کے معالج نے کہا ہے کہ اگر صحت یابی اسی رفتار سے جاری رہی تو اس سفر میں کوئی طبی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، تاہم حتمی فیصلہ ان کی طبی حالت کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا
پوپ کی ہسپتال سے واپسی ان کی صحت یابی میں ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن کینسر کے علاج کے اگلے مراحل اور مزید طبی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ان کی مکمل صحت کے بارے میں واضح تصویر سامنے آئے گی





