Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ، 78 سالہ فرانسیسی میئر کو بھی تشدد کا نشانہ بنا دیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ، 78 سالہ فرانسیسی میئر کو بھی تشدد کا نشانہ بنا دیا

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے طیبہ میں اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ کر دیا اور فرانس کے 78 سالہ میئر برنارڈ بودو کو لاتیں ماریں اور لوہے کی سلاخوں سے تشدد کا نشانہ بنایا یہ واقعہ 17 اکتوبر 2026 کو پیش آیا، جب فرانسیسی، بیلجیئم اور پولینڈ کے سفارت کار فلسطینی کسانوں کے ساتھ زیتون کی فصل کی کٹائی میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے اس حملے نے فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور مقامی آبادی کے تحفظ پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں
فرانسیسی قصبے اولنوا ایمرے کے میئر برنارڈ بودو فلسطینی کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے طیبہ پہنچے تھے ان کے مطابق نقاب پوش حملہ آوروں نے فرانس کے خلاف توہین آمیز نعرے لگائے، انہیں لاتیں ماریں اور لوہے کی سلاخوں سے ضربیں لگائیں حملے کے بعد وہ گاڑی کے قریب زمین پر گرے ہوئے دکھائی دیے، تاہم انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی
بودو نے کہا کہ اگر آبادکار اس طرح حملے کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے انہیں کسی حد تک برداشت کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کو جاننا چاہیے کہ فلسطینی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے، جبکہ وہاں سب سے زیادہ تکلیف مقامی لوگوں کو برداشت کرنا پڑتی ہے
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب فلسطینی کسان اپنی سالانہ زیتون کی فصل جمع کر رہے ہیں زیتون فلسطینی ثقافت، روزگار اور معیشت کا اہم حصہ ہے مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے کسانوں کو فصل کاٹنے سے روکنے، زیتون چوری کرنے، درختوں کو نقصان پہنچانے اور زمینوں پر قبضے کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں
واقعے کے دوران فلسطینی کسانوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ طیبہ کے پادری بشار فوادلہ کے مطابق آبادکاروں نے زیتون چننے والے افراد پر حملہ کیا، ان کی فصل اٹھائی اور 70 سال سے زائد عمر کی ایک خاتون کو بھی مارا پیٹا ایک شخص کے سر پر شدید چوٹ آئی جس پر اسے ٹانکے لگوانے پڑے۔ حملہ آوروں نے بیلجیئم کے سفارتی مشن کی ایک گاڑی کی کھڑکی بھی توڑ دی
اس واقعے سے صرف ایک روز پہلے اسرائیلی آبادکاروں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوائن پر بھی حملہ کیا تھا انہیں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں فریکچر آئے اور ان کی حالت درمیانے درجے کی تشویش ناک بتائی گئی اس طرح مختصر عرصے میں صحافیوں، فلسطینی کسانوں اور یورپی سفارتی نمائندوں کو نشانہ بنائے جانے پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سفارت کاروں پر حملے کی مذمت کی اور پولیس نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تاہم وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے آبادکاروں کے خلاف الزامات پر احتیاط برتنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاروں کو مغربی کنارے میں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں اسرائیلی فوج سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ان کے بیان میں فرانسیسی میئر کی فلسطینیوں کے حق میں سرگرمیوں کا بھی حوالہ دیا گیا
دوسری جانب بیلجیئم نے آبادکاروں کے تشدد کو روکنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی فصل کاٹنے، صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے اور سفارت کاروں کو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے تشدد کے خطرے کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے آبادکاروں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کا معاملہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی تنازع کا مرکز ہے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا اس علاقے میں تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آبادکار اور 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی بڑی تعداد مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل اس قانونی مؤقف سے اختلاف کرتا ہے
حالیہ مہینوں میں آبادکاروں اور فلسطینی باشندوں کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوا ہے فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں زمینوں پر قبضے، زیتون کے درختوں کی تباہی اور کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنے کی شکایات کرتی رہی ہیں اسرائیلی حکومت نے بعض حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے تشدد جاری رہنے کا خطرہ بڑھتا ہے
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس مرتبہ تشدد کا نشانہ بننے والوں میں یورپی سفارت کار اور ایک غیر ملکی میئر بھی شامل تھے اگر سفارتی نمائندوں اور بین الاقوامی صحافیوں کی موجودگی بھی لوگوں کو تشدد سے محفوظ نہیں رکھ سکتی تو فلسطینی کسانوں اور عام شہریوں کو درپیش خطرات کے بارے میں تشویش مزید بڑھ جاتی ہے
مغربی کنارے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں، کسانوں، صحافیوں اور سفارتی نمائندوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، حملوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے محض مذمت اور تحقیقات کے اعلانات کافی نہیں ہوں گے، جب تک ان کے نتیجے میں تشدد روکنے اور متاثرہ فلسطینی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے

قومی خبریں سے مزید