Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

افغانستان کی طالبان حکومت انکار کی پالیسی چھوڑے، پاکستان میں دہشت گردی روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات ضروری

افغانستان کی طالبان حکومت انکار کی پالیسی چھوڑے، پاکستان میں دہشت گردی روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات ضروری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے روس کی ثالثی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے روکنے کے لیے عملی اور قابل تصدیق اقدامات کرے
پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد افغانستان سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن مذاکرات غیر مشروط نہیں ہو سکتے پاکستان چاہتا ہے کہ کابل ایسا قابل تصدیق طریقہ کار قبول کرے جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی
رواں ماہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والی علاقائی مشاورت کے دوران پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا بنیادی اختلاف افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے معاملے پر تھا افغان طالبان نے اعلامیے میں افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق حوالہ شامل کرنے پر اعتراض کیا
روس نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے، تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی باقاعدہ روسی ثالثی منصوبے پر اتفاق کی تصدیق نہیں ہوئی۔ روس کے علاوہ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین بھی مختلف اوقات میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر چکے ہیں
افغان طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سمیت متعدد مسلح گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں ان الزامات پر دونوں حکومتوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے
پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے باعث عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان ایسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور ان کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کیے جائیں
اس مسئلے کے علاقائی اثرات بھی ہیں افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں داعش خراسان بھی افغانستان میں سرگرم ہے اور روس سمیت مختلف ممالک میں حملوں سے منسلک رہی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش خراسان اور افغان طالبان ایک دوسرے کے مخالف ہیں، لیکن افغانستان میں اس گروہ کی موجودگی پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی، لسانی اور تجارتی تعلقات بہت گہرے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کے خاندان، کاروبار اور روزگار سرحد کے دونوں طرف پھیلے ہوئے ہیں اسی لیے مسلسل کشیدگی اور سرحدی بندشوں کا نقصان صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہریوں، تاجروں، مزدوروں اور مسافروں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ سفارتی راستے بھی کھلے رکھے اسی طرح افغان طالبان حکومت کو بھی محض الزامات کی تردید کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتائج کا آزادانہ اور قابل اعتماد طریقے سے جائزہ لیا جا سکے
دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار حملوں سے روکا جائے، سرحدی تنازعات کے حل کے لیے مستقل طریقہ کار بنایا جائے اور تجارتی و سفارتی تعلقات کی بحالی کو عملی اقدامات سے جوڑا جائے اگر افغان طالبان حکومت پاکستان اور دوسرے پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکنے کی واضح ضمانت دیتی ہے تو افغانستان کے علاقائی تعلقات بہتر بنانے اور اسے خطے کے ساتھ معاشی طور پر منسلک کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید