پاکستان کی افغانستان پالیسی میں بڑی تبدیلی، طالبان سے تعلقات ختم کرنے اور ماضی کی غلطیوں کا حساب دینے کا چیلنج
پاکستان کی افغانستان پالیسی گزشتہ 5 دہائیوں سے ملک کی سیاست، سلامتی اور خطے میں اس کے کردار پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہے، لیکن اب اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے پاکستان کو ایک طرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور سرحد پار سرگرم شدت پسند گروہوں کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے
پاکستان کی افغانستان پالیسی پر بحث اب صرف دہشت گردی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات، سیاسی اختلافات، صوبائی خودمختاری اور ماضی کی ریاستی حکمت عملی کے نتائج بھی شامل ہو چکے ہیں
پاکستان میں افغانستان سے متعلق موجودہ پالیسی پر اختلافات کے پس منظر میں خیبر پختونخوا کی سیاست بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے سابق صوبائی حکومت پر الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور سخت مؤقف اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھی تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائیوں، نقل مکانی اور سکیورٹی اخراجات میں اضافے کے فیصلوں کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں
پاکستان کی افغانستان پالیسی کی جڑیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک پہنچتی ہیں۔ 1973 میں افغانستان میں سردار داؤد کے اقتدار میں آنے اور پشتونستان کے مسئلے کو دوبارہ اٹھانے کے بعد بھٹو حکومت نے افغان اسلام پسند گروہوں کی میزبانی اور تربیت شروع کی۔ اس وقت اس حکمت عملی کا مقصد کابل پر دباؤ ڈالنا تھا
تاہم جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہی حکمت عملی محض سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے سے بڑھ کر ریاستی نظریے کا حصہ بن گئی۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد افغان جہاد، مہاجرین کی آمد، مدارس کے پھیلاؤ، تزویراتی گہرائی کے تصور اور خفیہ اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار نے پاکستان کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کیے
وقت گزرنے کے ساتھ افغانستان سے متعلق یہ حکمت عملی پاکستان کے لیے نئے مسائل پیدا کرنے لگی ناقدین کے مطابق غیر ریاستی مسلح گروہوں پر انحصار نے ایسے حالات پیدا کیے جن سے تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کو پنپنے کا موقع ملا اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ مزید سنگین ہوا
اگست 2021 میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سلامتی کے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گئے اب پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کس بنیاد پر قائم رکھے جائیں اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے گروہوں کو روکنے کے لیے کون سے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے
موجودہ صورت حال میں پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا افغان طالبان سے مکمل علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے یا مذاکرات کے ذریعے انہیں پاکستان مخالف شدت پسند گروہوں سے تعلقات ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے اگر افغان طالبان ایسے گروہوں سے فاصلہ اختیار کرنے پر تیار ہو جائیں تو پاکستان کے لیے سفارتی راستہ کھل سکتا ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو فوجی کارروائیوں اور مزید سخت اقدامات کا امکان برقرار رہے گا
اس تمام صورت حال میں سب سے اہم سوال ریاستی پالیسی کی ذمہ داری کا ہے اگر ماضی کی حکمت عملی نے ملک میں دہشت گردی کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا تو اس کے فیصلوں، ان کے معماروں اور ان کے نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے صرف سیاسی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرانے سے اس مسئلے کی تاریخی وجوہات ختم نہیں ہوں گی
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بھی افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کی پالیسی آگے بڑھی بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران جنرل نصیر اللہ بابر نے 1994 سے 1996 کے عرصے میں طالبان کے ابھار میں کردار ادا کیا بعد کے برسوں میں طالبان کی دہشت گردی نے پیپلز پارٹی سمیت متعدد سیاسی قوتوں کو نقصان پہنچایا اور بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنیں
پاکستان کے لیے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں ماضی کی پالیسیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اختیار کرے جو ملک کی سلامتی، سیاسی استحکام اور عوامی مفادات کو ترجیح دے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ سفارت کاری، مؤثر سرحدی انتظام، انٹیلی جنس تعاون اور متاثرہ علاقوں کی سماجی و معاشی بحالی بھی ضروری ہے
افغانستان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی کامیابی کا فیصلہ محض سخت بیانات یا فوجی کارروائیوں سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ پاکستان میں دہشت گردی کتنی کم ہوتی ہے، سرحدی علاقوں میں امن کس حد تک بحال ہوتا ہے اور ریاست اپنی سابقہ پالیسیوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستقبل کے لیے کتنا واضح اور قابل عمل راستہ اختیار کرتی ہے





