برطانیہ میں ریفارم پارٹی کے امیدوار کا مسلمانوں کے خلاف بیان، مسلمان اور برطانوی شہری ایک ساتھ ممکن نہیں ، پناہ گزینوں کے لیے حراستی کیمپ بنانے کی تجویز
برطانیہ کی ریفارم یو کے پارٹی کے ایک امیدوار کو خفیہ کیمرے پر یہ کہتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا ہے کہ مسلمان برطانوی نہیں ہو سکتے اور پناہ کے متلاشی افراد کو ’’حراستی کیمپوں‘‘ میں رکھا جانا چاہیے
ہفتے، 17 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیانات برطانوی نشریاتی ادارے آئی ٹی وی کی ایک خفیہ تحقیق کے دوران ریکارڈ کیے گئے،اس تحقیق کے سامنے آنے والے مواد کے بعد ریفارم یو کے کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور اس کے ارکان و کارکنوں کے رویے پر نسل پرستی کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں
ریفارم یو کے نے کہا ہے کہ اس نے ان کارکنوں اور ارکان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جنہوں نے واضح طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا،پارٹی کا کہنا ہے کہ اس میں نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں
اتوار کو نشر ہونے والی ویڈیو میں ریفارم یو کے کا ایک کارکن، جو رکن پارلیمنٹ بننے کا خواہش مند ہے، اسلام کے بارے میں اپنے سخت مؤقف کا اظہار کرتا دکھائی دے گا،اس شخص کی شناخت تاحال عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی
خفیہ رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ اسلام کے معاملے میں ’’کافی سخت مؤقف‘‘ رکھتا ہے
اس کا کہنا تھا، ’’اگر کوئی مسلمان اسلام ترک کرنے کے لیے تیار ہو تو مجھے اس پر اعتراض نہیں،لیکن اگر وہ اسلام پر قائم رہنا چاہتا ہے تو مجھے اس سے اختلاف ہوگا”
اس نے ریفارم یو کے کے امور داخلہ کے ترجمان ضیا یوسف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک اس کی معلومات ہیں، ضیا یوسف مسلمان ہیں، لیکن اس کے نزدیک ’’آپ مسلمان بھی ہوں اور برطانوی بھی، یہ ممکن نہیں”
اس بیان میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور برطانوی قومی شناخت کو ایک دوسرے کے منافی قرار دیا گیا ہے، جبکہ پناہ کے متلاشی افراد کے لیے حراستی کیمپوں کی تجویز نے بھی سیاسی تنازعہ کو مزید شدت دے دی ہے





