ٹرمپ کی سفارتی مہم، عالمی طاقت پر امریکی اثر و رسوخ کی حدود نمایاں ہوگئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور چینی صدر شی جن پنگ سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے ذریعے عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ اور اپنی سفارتی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ہفتے بھر کی سفارتی سرگرمیوں میں کئی ایسے معاملات سامنے آئے جن سے ظاہر ہوا کہ واشنگٹن کے لیے عالمی فیصلوں کو اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھانا آسان نہیں رہا
ٹرمپ نے اقوام متحدہ سے خطاب میں ایران کو خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اسے تباہ کر سکتا ہے، جبکہ یوکرین جنگ، وینزویلا اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی عالمی معاملات پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا تاہم ایران کے ساتھ تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ اب بھی کسی واضح سفارتی حل تک نہیں پہنچ سکی اور اس تنازع نے خطے کے ساتھ عالمی توانائی کی رسد کو بھی متاثر کیا ہے
ٹرمپ کی سب سے اہم سفارتی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہوئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت، تجارت، تائیوان اور ایران جیسے بڑے اختلافات کے باوجود کوئی بڑا معاہدہ سامنے نہیں آیا ملاقات کا نمایاں نتیجہ امریکا اور چین کے درمیان موجود تجارتی جنگ بندی میں مزید 2 ماہ کی توسیع رہا چینی ذرائع کے مطابق شی جن پنگ نے ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکا تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرے
چین کے ساتھ ٹرمپ کا موجودہ محتاط رویہ ان کی پہلے اختیار کی گئی سخت تجارتی پالیسی سے مختلف دکھائی دیتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ چین کا نایاب معدنیات پر مضبوط کنٹرول بھی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور گاڑیوں کی صنعت کے لیے اہم ہیں چین ماضی میں ان معدنیات کو تجارتی دباؤ کے جواب میں استعمال کرنے کی صلاحیت ظاہر کر چکا ہے
ایران کا تنازع بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکا کی طاقت کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، لیکن دوسری جانب ایران نے دباؤ کے باوجود جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط برقرار رکھی ہیں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت بھی ہوئی، مگر فوری معاہدہ سامنے نہیں آیا
یورپی اتحادیوں کی جانب سے بھی ٹرمپ کی ایران پالیسی کو مکمل حمایت نہیں ملی کئی یورپی اور ایشیائی اتحادیوں نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں عملی مدد دینے سے گریز کیا اقوام متحدہ کے اجلاس میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے عالمی نظام میں طاقت اور دباؤ کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے عالمی معاملات میں قانون اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے معاملے میں بھی ٹرمپ کی جانب سے فوری پیش رفت کی خواہش کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی اسی طرح گرین لینڈ کے معاملے میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان فوجی موجودگی بڑھانے سے متعلق ایک معاہدہ سامنے آیا، لیکن یہ ٹرمپ کے اس سابقہ مطالبے سے مختلف تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ کو امریکا کی ملکیت بنانے کی بات کی تھی
اس صورتحال میں امریکی خارجہ پالیسی کے سامنے ایک بنیادی حقیقت نمایاں ہوئی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اب واشنگٹن کے ہر مطالبے کو خودکار طور پر قبول نہیں کر رہیں چین اپنی معاشی اور تجارتی طاقت کے ساتھ زیادہ مضبوط پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے، ایران جنگ کے باوجود مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ یورپی اور دیگر اتحادی ممالک بھی بعض معاملات میں امریکی مؤقف سے الگ راستہ اختیار کر رہے ہیں یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن ان کی آئندہ پالیسیوں کی گنجائش پر اثر ڈال سکتا ہے
ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت کے لیے ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہوئے خود بھی سوال اٹھایا کہ عالمی سطح پر ان کے پاس کتنی طاقت ہے ان کا کہنا تھا کہ جلد معلوم ہوجائے گا کہ ان کے پاس یہ طاقت موجود ہے یا نہیں موجودہ سفارتی صورتحال میں یہی سوال ان کی دوسری مدت کی خارجہ پالیسی کے لیے مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے





