Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات، سخت قوانین کے باوجود تحفظ کے سوالات اٹھا رہے ہیں

بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات، سخت قوانین کے باوجود تحفظ کے سوالات اٹھا رہے ہیں

بھارت میں حالیہ دنوں میں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد خواتین کے تحفظ اور موجودہ قوانین پر دوبارہ بحث شروع ہوگئی ہے نئی دہلی میں سینکڑوں طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور حکومت سے خواتین کے لیے زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا تازہ ترین واقعے میں حکام کے مطابق 3 افراد نے پولیس اہلکار ظاہر کرکے 17 سالہ لڑکی کو دارالحکومت کے ایک عوامی پارک میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا
یہ واقعہ 2012 میں نئی دہلی میں ایک 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے کی یاد بھی تازہ کر گیا تھا، جس کے بعد بھارت میں ملک گیر احتجاج ہوئے اور جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں ان اصلاحات کے تحت جنسی جرائم کی قانونی تعریف وسیع کی گئی، اجتماعی زیادتی پر کم از کم 20 سال قید کی سزا مقرر کی گئی اور بعض حالات میں بار بار زیادتی کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت کی گنجائش بھی پیدا کی گئی
اس کے باوجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 2024 کے دوران روزانہ اوسطاً تقریباً 80 زیادتی کے مقدمات درج ہوئے، جبکہ 2012 میں یہ اوسط تقریباً 68 مقدمات روزانہ تھی ماہرین اور حقوق کی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سی متاثرہ خواتین سماجی بدنامی، دباؤ اور دیگر وجوہات کی بنا پر پولیس سے رجوع نہیں کرتیں
حالیہ واقعات میں نئی دہلی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل، بارش کے دوران مدد کی پیشکش کرنے والے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کی جانب سے ایک 17 سالہ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور بہار میں ایک کم عمر لڑکی پر مبینہ جنسی حملے کا واقعہ بھی شامل ہے ان واقعات کے بعد گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج اور سیاسی سطح پر مذمت بھی سامنے آئی ہے
قانونی ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف قوانین کی موجودگی کا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کا بھی ہے پولیس اور عدالتوں پر مقدمات کا بھاری بوجھ ہے، جس کے باعث تحقیقات اور عدالتی کارروائی طویل ہوجاتی ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں عدالتوں میں زیر سماعت 200,000 سے زیادہ زیادتی کے مقدمات میں سے 10 فیصد سے بھی کم مقدمات مکمل ہوئے۔ مقدمات جو سماعت کے مرحلے تک پہنچتے ہیں ان میں سزا کی شرح بھی تقریباً ایک چوتھائی کے آس پاس رہی ہے
خواتین کے حقوق کی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسئلے کا ایک اہم پہلو معاشرتی رویوں میں تبدیلی ہے ان کے مطابق خواتین کے لباس، گھر سے باہر نکلنے کے وقت یا مردوں سے میل جول کو جنسی تشدد کے ساتھ جوڑنے والی سوچ ختم کرنا ضروری ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کی روک تھام صرف جرم ہونے کے بعد سزا دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ گھروں، اسکولوں، معاشرے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پولیس کے نظام میں بھی آگاہی اور تربیت پر توجہ دینا ضروری ہے
نئی دہلی کے حالیہ واقعات نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ خواتین کے لیے عوامی مقامات کس حد تک محفوظ ہیں ماہرین نے بہتر روشنی، محفوظ پیدل راستوں، قابل اعتماد رات کی پبلک ٹرانسپورٹ، مؤثر نگرانی کے کیمروں، ہنگامی امدادی نظام اور باقاعدہ حفاظتی جائزوں کو بھی خواتین کے تحفظ کا اہم حصہ قرار دیا ہے
بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کا مسئلہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ قانون میں تبدیلی کے ساتھ پولیس، عدالتوں، معاشرتی رویوں اور متاثرہ خواتین کے لیے معاون نظام میں بیک وقت بہتری کی ضرورت ہوتی ہے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ بحث سامنے لا دی ہے کہ سخت سزاؤں کے ساتھ ساتھ جرم کی روک تھام، بروقت انصاف اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی پر بھی توجہ دی جائے

قومی خبریں سے مزید