ایتھوپیا میں دوبارہ شدید لڑائی، شمالی علاقوں میں انٹرنیٹ بند
ایتھوپیا کے شمالی علاقوں میں حکومت اور ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ٹگرائے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کی سروس بھی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تازہ جھڑپیں ٹگرائے کے علاوہ پڑوسی علاقوں عفار اور امہارا تک پھیل گئی ہیں
عفار کے علاقے میں انسانی امداد سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق سرحدی شہر ابالا کے قریب رات بھر شدید لڑائی ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کی وفاقی فورسز نے ٹگرائے کے جنگجوؤں کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا اور فوج نے ڈرون بھی استعمال کیا۔l امبارا کے نارتھ وولو علاقے میں بھی شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ تاریخی شہر لالی بیلا کے قریب بھی بھاری ہتھیاروں کی آوازیں سنائی دیں
ٹگرائے کے جنگجوؤں نے رواں ہفتے کئی مقامی ہوائی اڈوں پر قبضہ کیا اور عفار اور امہارا میں کارروائیاں شروع کیں ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے نائب صدر امانوئل اسفہ نے کہا ہے کہ فریقین اب مکمل جنگ کی حالت میں داخل ہو چکے ہیں دوسری طرف ایتھوپیا کی فوج کا دعویٰ ہے کہ نارتھ وولو میں کارروائی کے دوران 272 ٹگرائے جنگجو مارے گئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی
شمالی ایتھوپیا میں انٹرنیٹ کی بندش نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ ٹگرائے میں ٹیلی کمیونیکیشن بند ہونے کی اطلاعات کے ساتھ شمالی ایتھوپیا میں انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ علاقے سے فون پر رابطہ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے
موجودہ کشیدگی نے 2020 سے 2022 کی تباہ کن خانہ جنگی کی یاد تازہ کر دی ہے افریقی یونین کے اندازے کے مطابق اس جنگ میں 600,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اس وقت مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ طویل جنگ، مواصلاتی پابندیوں اور رسد میں رکاوٹ کے باعث ایک بار پھر بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹگرائے کے جنگجوؤں کی کارروائیاں ان علاقوں تک پہنچ رہی ہیں جو ایتھوپیا کی اہم تجارتی رسد کے راستوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ عفار کے ذریعے جبوتی سے آنے والی تجارتی سپلائی، جس میں ایندھن بھی شامل ہے، ایتھوپیا تک پہنچتی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق عفار میں پیش قدمی کا ایک مقصد ان رسد کے راستوں کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے
ادھر ایتھوپیا میں حکومت مخالف 7 مسلح گروہوں نے بھی ایک اتحاد قائم کیا ہے جس کا مقصد وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کو ہٹانا بتایا گیا ہے اس اتحاد میں ایسے گروہ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ چکے ہیں حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اس اتحاد کو اریٹیریا کی حمایت حاصل ہے، تاہم اریٹیریا نے اس الزام کی تردید کی ہے
تازہ لڑائی کے پھیلاؤ نے اس خدشے کو بھی بڑھا دیا ہے کہ تنازع صرف ٹگرائے تک محدود نہ رہے اور پڑوسی علاقوں اور ممکنہ طور پر اریٹیریا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے افریقی یونین نے پہلے ہی فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے





