دو ہزار بیس کے بعد آبادی کا نقشہ بدل گیا، امریکہ کی کچھ ریاستوں میں غیر معمولی اضافہ جبکہ کئی علاقوں میں واضح کمی ریکارڈ

دو ہزار بیس کے بعد آبادی کا نقشہ بدل گیا، امریکہ کی کچھ ریاستوں میں غیر معمولی اضافہ جبکہ کئی علاقوں میں واضح کمی ریکارڈ

امریکہ میں دو ہزار بیس کے بعد ہونے والی آبادی کی تبدیلیوں نے ملک کے اندر آبادیاتی توازن کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ تازہ رجحانات کے مطابق کچھ ریاستوں میں تیزی سے آبادی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کئی روایتی صنعتی اور شمال مشرقی علاقے آبادی کے دباؤ میں کمی کا شکار رہے ہیں۔

جن ریاستوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ان میں جنوبی اور مغربی حصے نمایاں ہیں، جہاں روزگار کے مواقع، نسبتاً کم رہائشی اخراجات اور بہتر کاروباری ماحول نے لاکھوں افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے رہائش، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب شمال مشرقی اور کچھ وسطی ریاستوں میں آبادی میں کمی یا سست روی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں صنعتی زوال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور نوجوان آبادی کی دیگر ریاستوں کی طرف منتقلی کو اس رجحان کی بنیادی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف نقل مکانی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑے معاشی اور سماجی رجحان کی عکاس ہے، جس میں لوگ زیادہ مواقع، بہتر موسم اور نسبتاً کم ٹیکس والے علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق جو ریاستیں سب سے زیادہ ترقی کرتی ہوئی آبادی رکھتی ہیں ان میں جنوبی ریاستیں اور کچھ مغربی علاقے شامل ہیں، جبکہ نیویارک، الی نوائے اور چند دیگر روایتی آبادیاتی مراکز میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے برسوں میں امریکی سیاست، کانگریس کی نشستوں کی تقسیم، اور معاشی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، کیونکہ آبادی کی یہ نئی سمت طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔

یوں دو ہزار بیس کے بعد کا امریکہ ایک نئے آبادیاتی نقشے کے ساتھ سامنے آ رہا ہے، جہاں کچھ خطے تیزی سے پھیل رہے ہیں اور کچھ اپنی پرانی آبادی کھو رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید