مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود اور مذاکرات کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ خفیہ سفارتی رابطوں میں بھی ایک نازک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ اسی غیر یقینی اور دھماکہ خیز صورتحال میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے متوقع دورے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات “فیصلے کے انتہائی قریب مگر خطرناک حد پر” پہنچ چکے ہیں، جہاں ایک طرف معاہدے کی امید ہے تو دوسری طرف دوبارہ حملوں کا سایہ بھی منڈلا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ممکنہ ملاقاتیں صرف رسمی گفتگو نہیں بلکہ ایک خاموش مگر شدید “پسِ پردہ ثالثی” کا حصہ ہیں، جس میں خطے کی بڑی طاقتیں براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کے سامنے موجود ہیں۔ یہ وہی سلسلہ ہے جس میں حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں غیر معمولی سرگرمی دکھائی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی خفیہ اور نیم رسمی ملاقاتوں کے اشارے ملے ہیں جن میں خطے کی حساس سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان رابطے شامل رہے ہیں۔ اب جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد کی بات سامنے آ رہی ہے تو اسے صرف ایک سفارتی دورہ نہیں بلکہ “آخری کوشش” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ایسا لمحہ جہاں جنگ اور امن کے درمیان لکیر تقریباً دھندلا چکی ہے۔ ادھر واشنگٹن، تہران اور تل ابیب تینوں میں بے چینی واضح ہے۔ ایک طرف امریکہ معاہدے کی کھڑکی کو “آخری سانسوں” میں قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں “وسیع علاقائی ردعمل” کی دھمکی دے چکا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اگر یہ خاموش مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ خطے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی موڑ ہوگا، اور اگر ناکام ہوا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے طوفان میں داخل ہو سکتا ہے جس کی شدت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔





