بھارت کے پہلے وزیر تعلیم جو کبھی اسکول نہیں گئے، مگر آئی آئی ٹی اور جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ دی
بھارت کے پہلے وزیر تعلیم جو کبھی اسکول نہیں گئے، مگر آئی آئی ٹی اور جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ دی
بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہ کبھی روایتی اسکول نہیں گئے، لیکن اپنی غیر معمولی خود تعلیمی صلاحیت، مطالعے اور فکری تربیت کے ذریعے انہوں نے آزاد بھارت کے جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ان کے والد مغربی طرزِ تعلیم کے حامی نہیں تھے، اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت گھر میں ہی کی۔ تاہم آزاد نے کم عمری میں ہی عربی، فارسی، اردو، مذہبی علوم، فلسفہ، تاریخ اور دیگر مضامین میں مہارت حاصل کر لی۔
آزادی کے بعد جب بھارت نے اپنا تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کیا تو مولانا آزاد نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور قومی اداروں کے قیام پر خصوصی توجہ دی۔
ان کی کوششوں سے ایسے اداروں کے قیام کی بنیاد پڑی جنہوں نے بعد میں بھارت کی علمی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور طبی تعلیم کے بڑے اداروں کی ترقی شامل ہے۔
مولانا آزاد کا تصور تھا کہ ایک مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے معیاری تعلیم، تحقیق اور سائنسی سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کی تعلیمی پالیسیوں نے آنے والی نسلوں کے لیے بھارت کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی سمت متعین کی۔
ان کی زندگی اس بات کی مثال سمجھی جاتی ہے کہ رسمی تعلیمی ڈگریوں کے بغیر بھی علم، مطالعے اور فکری صلاحیت کے ذریعے بڑے قومی اداروں کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے


