امریکی ریاستی انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدواروں کی نمایاں کامیابیاں، دو ٹیکساس میں دوبارہ منتخب، کنیکٹیکٹ اور پنسلوانیا فلوریڈا اور جارجیا میں نتائج کا انتظار
امریکہ کے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف ریاستوں میں قانون سازی کے اداروں کی نشستوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،ٹیکساس، کنیکٹیکٹ، جارجیا، پنسلوانیا، نیواڈا اور فلوریڈا میں پاکستانی نژاد امیدوار انتخابی میدان میں تھے،ابتدائی اور دستیاب نتائج کے مطابق کئی امیدوار اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ بعض حلقوں میں ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے
ٹیکساس میں ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ 76 سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر سلیمان لالانی نے ریپبلکن حریف لنڈا ہاؤل کو واضح فرق سے شکست دی،دستیاب انتخابی نتائج میں لالانی کو 36,295 ووٹ، یعنی 67 فیصد، جبکہ ان کی حریف کو 18,197 ووٹ ملے،اسی ریاست کے ڈسٹرکٹ 92 سے پاکستانی نژاد ڈیموکریٹ سلمان بھوجانی نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی،انہیں 24,585 ووٹ ملے، جبکہ ریپبلکن امیدوار جے پی وڈرف 11,966 ووٹ حاصل کر سکے،دونوں امیدوار ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ارکان ہیں
کنیکٹیکٹ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعود انور نے ریاستی سینیٹ کے ڈسٹرکٹ 3 سے دوبارہ کامیابی حاصل کی،وہ پہلے ہی اس ایوان کے رکن تھے،اسی ریاست میں مریم خان نے ڈسٹرکٹ 2 سے ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی،انہوں نے ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق ریاستی سینیٹر ڈگ میک کروری کو شکست دے کر پارٹی نامزدگی حاصل کی تھی اور عام انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ٹم ناٹس کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی،کنیکٹیکٹ کی انتخابی رپورٹنگ کے مطابق دونوں پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب قرار دیے گئے ہیں
جارجیا میں پاکستانی نژاد فاروق مغل ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ 105 سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ ابتدائی سرکاری اعدادوشمار میں انہیں ریپبلکن امیدوار سینڈی ڈوناٹوچی پر برتری حاصل ہے،دستیاب غیرحتمی نتائج میں مغل کو 15,248 ووٹ اور ڈوناٹوچی کو 9,851 ووٹ ملے،حلقے کے تمام مقامی علاقوں کی رپورٹنگ مکمل دکھائی گئی، تاہم نتائج ابھی غیرحتمی ہیں، اس لیے ان کی کامیابی کا حتمی اعلان ہونے تک انہیں فاتح قرار دینا درست نہیں ہوگا
پنسلوانیا میں پاکستانی نژاد ڈیموکریٹ طارق خان نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ 194 سے دوبارہ کامیابی حاصل کی،وہ اس حلقے کے موجودہ رکن ہیں اور اس مرتبہ ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا،اس طرح وہ بلا مقابلہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے
نیواڈا میں پاکستانی نژاد حنادی ندیم ریاستی اسمبلی کے ڈسٹرکٹ 34 سے دوبارہ انتخاب لڑ رہی تھیں،وہ اس سے پہلے 2024 میں منتخب ہوئی تھیں، تاہم 2026 کے انتخاب کے ان کے حلقے کا حتمی نتیجہ دستیاب معلومات میں ابھی واضح نہیں ہوا،فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار امتیاز محمد نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ 103 سے انتخاب لڑا، لیکن ڈیموکریٹ امیدوار رابن بارٹل مین نے انہیں شکست دے دی،فلوریڈا کے انتخابی نتائج کے مطابق بارٹل مین کو تقریباً 69 فیصد اور محمد کو 31 فیصد ووٹ ملے
یہ کامیابیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مسلمان امریکی امیدواروں کی انتخابی سرگرمی بھی نمایاں رہی،مسلم نیٹ ورک ٹی وی کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق 2026 کے انتخابات میں کم از کم55 مسلمان امریکی امیدوار مختلف ریاستوں میں وفاقی، ریاستی اور مقامی عہدوں کے لیے میدان میں تھے،ان میں ایک امیدوار امریکی سینیٹ اور 10 امیدوار وفاقی ایوانِ نمائندگان کی نشستوں کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے، جبکہ باقی امیدوار ریاستی اور مقامی سطح کے عہدوں پر مقابلہ کر رہے تھے،مشی گن سے ڈاکٹر عبدل السید نے امریکی سینیٹ کی نشست جیت کر تاریخ رقم کی اور امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہوئے
پاکستانی نژاد امیدواروں کی ان کامیابیوں کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ریاستی سینیٹ اور ریاستی ایوانِ نمائندگان کے ارکان اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت، ٹیکس، بجٹ، کاروبار اور عوامی خدمات سے متعلق قوانین بناتے ہیں،ان انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکیوں کی کامیابیاں امریکی سیاسی اور قانون ساز اداروں میں ان کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی کرتی ہیں یہاں واضع رہے نیو جرسی میں پاکستانی نژاد شمع بنیاد حیدر اور ال بارلاس نے 2025 کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی شمع بنیاد حیدر ڈیموکریٹ اور ال بارلاس ریپبلکن ہیں، دونوں کی اگلی انتخابی آزمائش 2027 میں ہوگی






