Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں سبزیوں اور پھلوں کی شدید کمی،، 60 فیصد سے زائد آبادی صحت مند خوراک خریدنے سے محروم

پاکستان میں سبزیوں اور پھلوں کی شدید کمی،، 60 فیصد سے زائد آبادی صحت مند خوراک خریدنے سے محروم

پاکستان میں خوراک کی مجموعی فراہمی ملکی غذائی رہنما اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی اقوام متحدہ کے ادارے خوراک و زراعت کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سبزیوں، پھلوں، جڑوں والی غذاؤں اور دالوں کی فراہمی ضرورت سے کم ہے، جبکہ اناج اور چینی کی مقدار صحت مند غذا کے لیے مقررہ ضروریات سے زیادہ ہے رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد آبادی صحت مند خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی، جس کے باعث غذائی قلت، ناقص غذائیت اور خوراک سے متعلق بیماریوں کے مسائل برقرار ہیں
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2018 میں صحت مند غذا سے متعلق قومی رہنما اصول اپنائے تھے، جن میں بتایا گیا تھا کہ متوازن غذا کے لیے کن غذائی اجزا اور خوراک کی کتنی مقدار ضروری ہے تاہم ملک میں پیدا ہونے والی اور دستیاب خوراک کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ غذائی ضروریات اور خوراک کی فراہمی کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے یہ جائزہ 2010 سے 2023 تک 10 غذائی گروپوں کی فراہمی اور آبادی کی ضروریات کا موازنہ کرکے تیار کیا گیا
سبزیوں کی کمی میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے رپورٹ کے تخمینے کے مطابق 2010 میں سبزیوں کی سالانہ فراہمی میں کمی 10.9 ملین سے 17.8 ملین ٹن کے درمیان تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 13 ملین سے 21.6 ملین ٹن تک پہنچ گئی اسی طرح پھلوں کی کمی 2010 میں 1.9 ملین سے 10.3 ملین ٹن کے درمیان تھی، جبکہ 2023 میں یہ بڑھ کر 3.9 ملین سے 14.3 ملین ٹن تک پہنچ گئی یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی بڑھانا ایک بڑا چیلنج ہے
رپورٹ میں دالوں، پھلیوں، آلو اور دیگر جڑوں والی غذاؤں کی فراہمی میں بھی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے یہ غذائیں پروٹین، ریشے، وٹامنز اور معدنی اجزا حاصل کرنے کے اہم ذرائع ہیں ان کی ناکافی فراہمی سے غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے متوازن غذا کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً جب گوشت، پھل اور تازہ سبزیاں مہنگی ہوں
اس کے برعکس اناج اور چینی کی فراہمی صحت مند غذا کے لیے درکار مقدار سے زیادہ ہے پاکستان میں گندم، آٹے، چاول اور دیگر اناجی غذاؤں پر انحصار روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے یہ غذائیں توانائی فراہم کرتی ہیں، لیکن اگر غذا میں سبزیاں، پھل، دالیں اور دیگر غذائی اجزا مناسب مقدار میں شامل نہ ہوں تو صرف پیٹ بھرنے سے جسم کی تمام غذائی ضروریات پوری نہیں ہوتیں چینی اور زیادہ شکر والی اشیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کے مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے
رپورٹ میں خوراک کی فراہمی کے بعض شعبوں میں بہتری کا ذکر بھی کیا گیا ہے دودھ، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور انڈوں کی دستیابی میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ چکنائی اور خوردنی تیل کی فراہمی بھی بعد کے برسوں میں تخمینہ شدہ ضروریات کی حد میں آ گئی تاہم ان بہتریوں کے باوجود مجموعی غذائی نظام میں عدم توازن برقرار ہے
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے رپورٹ کے مطابق ملک کی آبادی 2010 میں 18 کروڑ 93 لاکھ تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 23 کروڑ 52 لاکھ ہو گئی تخمینوں کے مطابق 2050 تک آبادی تقریباً 33 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے اس کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی دستیابی، زرعی پیداوار اور خوراک کی ترسیل کے مسائل مستقبل میں غذائی ضروریات پوری کرنے پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں
صحت مند خوراک کی عدم دستیابی کے اثرات صرف بھوک تک محدود نہیں رہتے غذائیت کی کمی بچوں کی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور جسمانی صحت کو متاثر کر سکتی ہے دوسری طرف چینی، نمک اور غیر صحت مند چکنائیوں سے بھرپور خوراک کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور موٹاپے جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے یوں پاکستان کو ایک ہی وقت میں غذائی قلت اور ناقص خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سامنا ہے
اقوام متحدہ کے ادارے نے مسئلے کے حل کے لیے زرعی پیداوار اور غذائی ضروریات کے درمیان بہتر مطابقت پیدا کرنے کی سفارش کی ہے اس کے تحت سبزیوں، پھلوں، دالوں اور جڑوں والی غذاؤں کی پیداوار میں سرمایہ کاری بڑھانے، کسانوں کو مناسب معاونت فراہم کرنے اور خوراک کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے
رپورٹ میں فصلوں کی کٹائی کے بعد خوراک کے ضیاع کو کم کرنے، گوداموں، سرد خانوں اور منڈیوں کے نظام کو بہتر بنانے اور غذائی مصنوعات کے معیار کو بلند کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے اگر پیداوار کے بعد خوراک خراب ہونے اور منڈیوں تک پہنچنے کے دوران ہونے والے نقصانات کو کم کیا جائے تو موجودہ پیداوار سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے
ادارے نے حکومت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ صحت مند خوراک سے متعلق قومی رہنما اصولوں پر نظرثانی کی جائے، عوام میں غذائیت کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور ایسی مصنوعات پر شواہد کی بنیاد پر ٹیکس لگانے پر غور کیا جائے جن میں شکر، نمک یا غیر صحت مند چکنائی کی مقدار زیادہ ہو پیکٹ بند غذاؤں پر واضح غذائی لیبل لگانے سے صارفین کو بہتر انتخاب میں مدد مل سکتی ہے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام اور اسکولوں میں غذائیت سے بھرپور کھانے کی فراہمی بھی اہم اقدامات قرار دیے گئے ہیں
رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان میں غذائی مسئلہ صرف خوراک کی مجموعی مقدار بڑھانے سے حل نہیں ہوگا ضروری ہے کہ ایسی خوراک کی پیداوار، تقسیم اور دستیابی کو ترجیح دی جائے جو صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے اور جسے عام شہری اپنی آمدنی کے اندر رہتے ہوئے خرید سکیں اگر سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی پیداوار بڑھے، خوراک کا ضیاع کم ہو اور غریب خاندانوں کی قوت خرید بہتر ہو تو غذائی عدم توازن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ زرعی پالیسی، غذائی تحفظ اور صحت عامہ کو الگ الگ معاملات سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے جب تک صحت مند خوراک مناسب مقدار میں دستیاب اور عام لوگوں کی پہنچ میں نہیں ہوگی، غذائیت سے متعلق قومی اہداف حاصل کرنا مشکل رہے گا

قومی خبریں سے مزید