Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کیا چین کا عالمی نظامِ حکمرانی کا منصوبہ دنیا کے طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے؟

کیا چین کا عالمی نظامِ حکمرانی کا منصوبہ دنیا کے طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے؟

چین نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کے لیے اپنے عالمی نظامِ حکمرانی کے اقدام کو آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے پر زور دیا ہے صدر شی جن پنگ کی جانب سے 2025 میں پیش کیے گئے اس منصوبے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ دنیا کے فیصلوں میں صرف بڑی طاقتوں کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی زیادہ مؤثر آواز ملنی چاہیے
23 سے 25 اکتوبر 2026 تک چین کے شہر شیونگ آن میں منعقد ہونے والے عالمی نظامِ حکمرانی فورم نے اس بحث کو نئی اہمیت دی ہے چین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کو ختم کرنے کے بجائے اس میں اصلاحات کی جائیں تاکہ بین الاقوامی تعاون، انصاف اور مساوی نمائندگی کو مضبوط بنایا جا سکے تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ چین اپنے اصولوں کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے اور دوسرے ممالک اس کی تجاویز کو کس حد تک قبول کرتے ہیں
چین کے اس منصوبے کی اہمیت سمجھنے کے لیے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو دیکھنا ضروری ہے۔ 1945 میں قائم ہونے والے اقوام متحدہ کا مقصد عالمی امن برقرار رکھنا، تنازعات کے حل میں مدد دینا اور ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔ لیکن آج بھی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے اس کا مطلب ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ملک بھی کسی اہم قرارداد کو روک سکتا ہے، خواہ دوسرے ارکان اس کی حمایت کرتے ہوں
چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا مؤقف ہے کہ موجودہ اداروں میں طاقت اور نمائندگی کی تقسیم آج کی دنیا کی حقیقتوں سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک کی آبادی اور عالمی معیشت میں اہمیت بڑھ چکی ہے، لیکن فیصلہ سازی کے اہم مراکز میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی محدود ہے۔ چین کا عالمی نظامِ حکمرانی کا منصوبہ اسی عدم توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے
چین کے اقدام کی بنیاد 5 اصولوں پر رکھی گئی ہے ان میں تمام ممالک کی خودمختاری اور مساوی حیثیت، بین الاقوامی قانون کی بالادستی، کثیر ملکی تعاون، عوام کی ضروریات کو مرکزیت دینا اور عملی نتائج حاصل کرنا شامل ہیں چین کا کہنا ہے کہ عالمی مسائل کا حل چند طاقتور ممالک کے یک طرفہ فیصلوں کے بجائے وسیع تر مشاورت اور مشترکہ اقدامات میں تلاش کیا جانا چاہیے
ان اصولوں کا تعلق ایسے مسائل سے بھی ہے جو کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، وبائی امراض، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی جیسے معاملات میں مختلف ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ چین چاہتا ہے کہ ان شعبوں کے لیے بننے والے عالمی قواعد میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کو زیادہ اہمیت دی جائے
چین نے واضح کیا ہے کہ اس کا منصوبہ اقوام متحدہ کی جگہ کوئی نیا عالمی ادارہ قائم کرنے کے بجائے موجودہ نظام کو زیادہ نمائندہ اور مؤثر بنانا چاہتا ہے اس سلسلے میں چین نے اقوام متحدہ میں اصلاحات، عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی زیادہ نمائندگی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئے شعبوں کے لیے بین الاقوامی قواعد مرتب کرنے پر زور دیا ہے
23 اکتوبر کو شیونگ آن فورم کے افتتاح کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے عالمی نظام میں اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کا اعلان کیا ان میں اقوام متحدہ کی اصلاحات میں تعاون، خلائی سرگرمیوں کے لیے قواعد تیار کرنا، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون بڑھانا اور عالمی حکمرانی کے مسائل پر تحقیق کے لیے ایک نیا مرکز قائم کرنا شامل ہے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ چین اپنے منصوبے کو محض ایک سفارتی نعرے کے بجائے مختلف شعبوں میں عملی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے
اس منصوبے کے ممکنہ حامیوں میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کو طویل عرصے سے یہ شکایت رہی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں میں ان کی معاشی ضروریات اور آبادی کے تناسب سے ان کی آواز مؤثر نہیں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک میں قرضوں، مالی معاونت اور معاشی پالیسیوں سے متعلق فیصلوں میں بڑی معیشتوں کا کردار نمایاں ہے
چین کا مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی فیصلوں میں زیادہ اختیار ملنے سے بین الاقوامی اداروں پر اعتماد بڑھے گا اس کا تعلق برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور گروپ آف 77 جیسے پلیٹ فارمز سے بھی ہے، جن کے ذریعے ترقی پذیر ممالک مشترکہ مفادات پر تعاون کرتے ہیں تاہم ان گروپوں میں شامل تمام ممالک کی ترجیحات ایک جیسی نہیں، اس لیے چین کی تجاویز کے لیے مکمل اتفاق رائے حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا
دوسری جانب اس منصوبے کے بارے میں سوالات بھی موجود ہیں چین ایک طرف تمام ممالک کی خودمختاری، مساوات اور عدم مداخلت کی حمایت کرتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اس کی کوششوں کا جائزہ اس بات سے بھی لیا جانا چاہیے کہ وہ عملی طور پر ان اصولوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے برطانیہ کے کونسل آن جیو اسٹریٹجی سمیت بعض تحقیقی اداروں کے تجزیوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چین عالمی اداروں کو ختم کرنے کے بجائے ان کے اندر اپنے نقطۂ نظر اور ترجیحات کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اس لیے اصلاحات کے دعووں اور ان کے عملی نتائج میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے
امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی مسابقت بھی اس معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے اگر چین عالمی اداروں میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے تو اس سے عالمی فیصلوں میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے لیکن یہ تبدیلی لازماً زیادہ منصفانہ نظام کی ضمانت نہیں ہوگی اصل معیار یہ ہوگا کہ آیا نئے انتظامات چھوٹے ممالک کو زیادہ تحفظ دیتے ہیں، عالمی قوانین کا یکساں اطلاق یقینی بناتے ہیں اور تنازعات کے پُرامن حل میں مدد فراہم کرتے ہیں یا نہیں
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اس بحث کی خاص اہمیت ہے پاکستان چین کے ساتھ قریبی معاشی اور دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں سے بھی وابستہ ہے اگر عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کو زیادہ نمائندگی ملتی ہے تو پاکستان سمیت کئی ممالک کو اپنے معاشی مفادات کے لیے زیادہ مؤثر آواز مل سکتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پاکستان کسی ایک طاقت پر غیر ضروری انحصار کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنائے
آخرکار چین کے عالمی نظامِ حکمرانی کے اقدام کی کامیابی کا فیصلہ صرف فورمز، اعلانات اور سفارتی حمایت سے نہیں ہوگا اس کا اصل امتحان اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں میں حقیقی اصلاحات، بین الاقوامی قوانین کے منصفانہ اطلاق اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی فوائد کی صورت میں سامنے آئے گا چین نے موجودہ عالمی نظام کو زیادہ نمائندہ بنانے کی بحث کو آگے بڑھایا ہے، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ اس کی تجاویز کس حد تک عملی اصلاحات میں تبدیل ہوں گی عالمی نظام میں تبدیلی کا سوال اب صرف یہ نہیں کہ قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نظام میں تمام ممالک کو کتنا اختیار، تحفظ اور انصاف حاصل ہوگا

قومی خبریں سے مزید