یمن کی سرحد کے قریب سعودی ہیلی کاپٹر تباہ، 2 فوجی پائلٹ ہلاک، حوثیوں اور سعودی اتحاد کے دعوے مختلف
سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد نے اتوار، 18 اکتوبر 2026 کو تصدیق کی ہے کہ یمن کی سرحد کے قریب سعودی علاقے نجران میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار 2 افسر ہلاک ہوگئے سعودی اتحاد کے مطابق حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی تھی، تاہم یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا دونوں فریقوں کے بیانات میں فرق کے باعث طیارے کی تباہی کی اصل وجہ آزادانہ طور پر واضح نہیں ہو سکی
سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق نیشنل گارڈ کی وزارت سے تعلق رکھنے والا اے ایچ 6 آئی جاسوس ہیلی کاپٹر سعودی علاقے نجران میں تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ حادثے میں دونوں پائلٹ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے دوسری جانب حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کی رات دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے اسی علاقے میں سعودی فوج کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے تاہم سعودی اتحاد نے اپنے بیان میں طیارے کو اے ایچ 6 آئی جاسوس ہیلی کاپٹر قرار دیا اور اسے دشمن کے حملے کے بجائے تکنیکی خرابی کا نتیجہ بتایا
یہ واقعہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے دوران پیش آیا ہے تقریباً 4 سال کی غیر یقینی جنگ بندی کے بعد جولائی 2026 میں تنازع پھر بھڑک اٹھا، جبکہ گزشتہ ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب اہم علاقے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے
رپورٹ کے مطابق اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل حوثیوں کے حملوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 13 افراد ہلاک ہوئے تھے یہ حملہ سعودی عرب میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بننے والے حملوں میں شمار کیا گیا حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں، تیل کی تنصیبات اور سعودی عرب کے دیگر اہم اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے
سعودی اتحاد نے اتوار کو مزید بتایا کہ اس نے ریاض کے علاقے میں 2 ڈرونز اور تیل کی دولت سے مالا مال مشرقی صوبے کے اوپر ایک اور ڈرون کو روک لیا اتحاد کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی علاقے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل بھی فضا میں تباہ کر دیے گئے ان واقعات کے بعد سعودی دارالحکومت میں سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز یمن میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 بچے بھی شامل تھے ان ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں
تنازع کا ایک اہم پہلو بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی اہمیت بھی ہے یہ سمندری راستہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور باب المندب کے قریب علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد خطے میں سمندری راستوں کی سلامتی اور تیل کی عالمی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مصر بھی سعودی عرب کی حمایت کے لیے آگے آیا ہے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے ممکنہ حمایت کے معاملے پر ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا السیسی نے کہا کہ اگر سعودی قیادت درخواست کرے تو مصر اس کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات پر غور کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات کسی پر حملہ کرنے کے بجائے دفاعی اقدامات کے بارے میں ہے
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ لڑائی نہ صرف دونوں فریقوں کے لیے جانی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس سے پورے خطے کی سلامتی، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو بھی خطرات لاحق ہیں ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ سے متعلق دونوں فریقوں کے متضاد دعووں کے درمیان یہ واضح ہونا باقی ہے کہ آیا طیارہ واقعی تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا اسے کسی حملے میں نشانہ بنایا گیا





