خواتین پر تشدد صرف قانون سے نہیں رکے گا، معاشرتی سوچ بدلنے کے لیے تعلیم ضروری ہے
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے حالیہ مہینوں میں غیرت کے نام پر قتل، پسند کی شادی پر قتل، زیادتی، گھریلو تشدد، شوہر کی جانب سے تشدد و قتل، کم عمر بچیوں کے اغوا، زیادتی اور قتل سمیت خواتین اور ملازمت پیشہ افراد کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں تاہم ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں مکمل اور قابل اعتماد قومی اعداد و شمار بھی موجود نہیں، کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے
ماہرین کی جانب سے اس صورتحال کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں کمزور قوانین، قوانین پر ناقص عمل درآمد، متاثرہ خواتین کے تحفظ کے ناکافی انتظامات، کم شرح رپورٹنگ، کم سزا کی شرح، عدالتی تاخیر اور معاشرتی دباؤ شامل ہیں تاہم مضمون میں معاشرے میں موجود پدر سری سوچ کو بھی ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف قوانین اور سماجی اصولوں بلکہ خواتین کے خلاف ہونے والے واقعات پر معاشرے کے ردعمل کو بھی متاثر کرتی ہے
اکثر ایسے واقعات کے بعد توجہ اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ خاتون نے کیا لباس پہنا تھا، وہ کس وقت گھر سے باہر کیوں نکلی، گاڑی کیوں چلا رہی تھی یا کسی خاص جگہ پر کیوں موجود تھی اس طرح توجہ جرم کرنے والے کے بجائے متاثرہ خاتون کے رویے پر منتقل ہو جاتی ہے مضمون کے مطابق یہ سوچ معاشرے کے مختلف اصولوں اور رویوں میں اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اسے صرف قانون کے ذریعے تبدیل کرنا مشکل ہے
اسی لیے تعلیم کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تعلیم کا مقصد صرف بچوں کو ریاضی، انگریزی یا دوسرے مضامین پڑھانا اور امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں ایک ذمہ دار انسان اور شہری بنانے میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے
مضمون میں لندن کے ایک سرکاری اسکول کی مثال دی گئی ہے جہاں ایک طالبہ کے اسکول کے پہلے ہی دن استاد نے کئی گھنٹے شمولیت، مختلف صلاحیتوں رکھنے والے افراد کے احترام، متوقع رویوں اور ناقابل قبول رویوں پر گفتگو کی اس کے علاوہ طلبہ کو فریدا کاہلو، مہاتما گاندھی، سیمون بائلز اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات کے بارے میں بھی پڑھایا جا رہا ہے
مصنف کے مطابق ایسے تعلیمی تجربات بچوں کو صرف کتابی علم نہیں دیتے بلکہ انہیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتے ہیں کہ ایک معاشرے میں دوسروں کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے، اختلاف اور تنوع کو کیسے قبول کرنا ہے اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کا کردار کیا ہونا چاہیے
پاکستان میں صورتحال اس لیے بھی مشکل ہے کہ اسکولوں میں تعلیم کا بڑا حصہ اب بھی نصاب مکمل کرنے اور امتحانات کی تیاری تک محدود ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن اگر تعلیم صرف زبان اور ریاضی کی بنیادی مہارتوں تک محدود ہو جائے تو بچوں کی سماجی اور اخلاقی تربیت مزید پیچھے رہ سکتی ہے
پاکستان میں تقریباً 77 فیصد بچے بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کے حوالے سے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ پاتے، جس کی وجہ سے تعلیمی پالیسی میں بنیادی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے تاہم مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی سماجی تربیت، انسانی حقوق، برابری، احترام اور ذمہ داری جیسے موضوعات کو بھی تعلیم کا حصہ بنانا ضروری ہے
خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے قانون، پولیس، عدالتیں اور سزا کا نظام اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن اگر معاشرے کی بنیادی سوچ تبدیل نہ ہو تو صرف سخت قوانین سے مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ بچوں کو کم عمری سے یہ سکھانا ہوگا کہ کسی انسان کی عزت، آزادی اور تحفظ اس کے لباس، وقت، مقام یا طرز زندگی سے مشروط نہیں ہے
تعلیم اگر صرف روزگار حاصل کرنے اور امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بن کر رہ جائے تو معاشرے کے بڑے مسائل حل نہیں ہوسکتے خواتین کے خلاف تشدد، عدم برداشت اور پدر سری سوچ جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو بچوں کو صرف ہنر مند نہیں بلکہ ذمہ دار، بااحترام اور باشعور شہری بھی بنائے





