پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت، فوجی سربراہوں کا ہنگامی اجلاس زیر غور
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کے ساتھ ملاقات میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا تینوں ممالک نے اگلے مرحلے میں دفاعی تعاون کے طریقہ کار کو مزید منظم کرنے پر بھی بات چیت کی
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی کیا گیا ہے
مکہ معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے 31 اگست کو استنبول میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہوں کا پہلا اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے اور سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا پاکستان کو اس سیکریٹریٹ کی سربراہی کی ذمہ داری دی گئی جبکہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو 23 ستمبر کو پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا
نیویارک میں ہونے والی تازہ ملاقات میں تینوں وزرائے خارجہ نے جنرل سیکریٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے آئندہ سرگرمیوں کے آغاز کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بات کی
ملاقات میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تینوں ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تینوں ممالک کے فوجی سربراہوں کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات پر بات کی، جس کا مقصد معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے امکانات کا جائزہ لینا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجلاس کب ہوگا یا ممکنہ تعاون کی عملی شکل کیا ہوگی
سعودی عرب کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور سعودی حکام نے متعدد علاقوں کے لیے سکیورٹی انتباہات بھی جاری کیے 24 ستمبر کو سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل روکنے کا دعویٰ کیا تھا
ترکیہ پہلے ہی اس دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی فوجی ضروریات میں مدد کی آمادگی ظاہر کر چکا ہے ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کو بعض تکنیکی فوجی ضروریات میں مدد درکار ہوئی تو ترکیہ انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہے
پاکستان کی جانب سے بھی سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے واضح بیانات سامنے آئے ہیں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 18 ستمبر کو کہا تھا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا تھا
مکہ دفاعی معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو اب باقاعدہ شکل دی جا رہی ہے اس عمل میں مستقل سیکریٹریٹ، مشترکہ کمیٹیوں، ورکنگ گروپس اور فوجی رابطہ کاری کا نظام شامل ہے تینوں ممالک نے ساتھ ہی بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری، عدم مداخلت اور سمندری راستوں کی آزادی کے اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے کے تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے





