بھارت کی نئی فوجی کمانڈ کا منصوبہ، مگر جنگی صلاحیتوں کی کمی بڑا مسئلہ بن گئی
بھارت کی حکومت اپنی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو 3 مربوط تھیٹر کمانڈز میں منظم کرنے کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، تاہم دفاعی ڈھانچے میں موجود سنگین کمیوں اور فوجی تیاری سے متعلق خدشات نے اس منصوبے کے عملی نفاذ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں
تھیٹر کمانڈ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی مخصوص جغرافیائی محاذ پر بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کے وسائل ایک ہی کمانڈر کے ماتحت کام کریں تاکہ جنگ کی صورت میں فیصلے تیزی سے کیے جا سکیں اور تینوں افواج کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو بھارت میں اس اصلاح پر تقریباً 2 دہائیوں سے بحث جاری ہے اور اب حکومت اسے عملی شکل دینے کے قریب پہنچ چکی ہے مجوزہ نظام میں ایک مغربی کمانڈ پاکستان سے متصل محاذ، ایک شمالی کمانڈ چین کی سرحد اور ایک بحری کمانڈ سمندری علاقوں کے لیے قائم کی جا سکتی ہے
تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئی کمانڈز بنانے سے پہلے بھارت کو اپنی موجودہ جنگی صلاحیتوں میں موجود بڑے خلا کو پُر کرنا ہوگا بھارتی فضائیہ کے پاس اپریل 2026 تک صرف 29 لڑاکا اسکواڈرن رہ گئے تھے، جبکہ منظور شدہ تعداد 42 اسکواڈرن ہے۔ مجموعی طور پر اس کے پاس تقریباً 464 سے 522 جنگی طیارے ہیں مگ 21 کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تعداد کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے
بھارت نے تیجس ایم کے 1 اے کے 141 طیاروں کے آرڈر دیے ہیں اور مزید 114 کثیرالمقاصد جنگی طیاروں کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے، لیکن موجودہ رفتار کے باوجود اندازہ ہے کہ بھارتی فضائیہ 2035 تک صرف 35 سے 36 اسکواڈرن تک پہنچ سکے گی اس صورتحال میں محدود فضائی وسائل کو مختلف تھیٹر کمانڈز میں تقسیم کرنا خود بھارتی فضائیہ کے اندر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، کیونکہ فضائی طاقت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے ضرورت کے مطابق ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر منتقل کیا جا سکے
بھارتی بری فوج کو بھی جدید ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی کمی کا سامنا ہے چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر پہاڑی جنگ کے لیے بنیادی ڈھانچے اور جدید آلات کی تیاری بھی مکمل طور پر مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو سکی
بحریہ کی صورتحال بھی آسان نہیں بھارت کے پاس ایک فعال طیارہ بردار بحری جہاز کے ساتھ دوسرے طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت کی مکمل عملیاتی صلاحیت میں تکنیکی اور لاجسٹک مسائل کے باعث تاخیر ہوئی ہے اس کے علاوہ بھارت کے پاس تقریباً 15 سے 16 روایتی آبدوزیں ہیں، جن میں کئی پرانی ہو چکی ہیں، جبکہ اس کی اپنی ضرورت کم از کم 24 آبدوزوں کی بتائی جاتی ہے
بھارتی فوج کے اندر بھی اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ محدود وسائل کو نئی کمانڈز کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے فضائیہ کو خدشہ ہے کہ طیاروں کو مستقل طور پر مختلف تھیٹرز میں بانٹنے سے فضائی طاقت کی لچک متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ بری فوج اور بحریہ کو بھی اپنے محدود وسائل اور آپریشنل اختیار کے حوالے سے تحفظات ہیں
بھارت میں تھیٹر کمانڈ کا تصور بنیادی طور پر اس سوچ پر مبنی ہے کہ مستقبل کی جنگ صرف ایک فوج کے ذریعے نہیں بلکہ تینوں افواج کے مشترکہ آپریشن سے لڑی جائے گی لیکن دفاعی ماہرین کے ایک حصے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر کمانڈ کا ڈھانچہ تو تبدیل کر دیا جائے مگر طیاروں، بحری جہازوں، آبدوزوں، توپ خانے، فضائی دفاع اور جدید گولہ بارود کی کمی برقرار رہے تو صرف تنظیم نو سے جنگی صلاحیت میں مطلوبہ اضافہ کیسے ہوگا
بھارت کی دفاعی اصلاحات کے لیے ایک اور چیلنج مسلسل کم سرمایہ کاری، ہتھیاروں کی خریداری میں تاخیر اور مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے متعدد مختلف نظاموں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا ہے اس لیے موجودہ صورتحال میں تھیٹر کمانڈ کا منصوبہ بھارت کی فوجی تنظیم نو کی ایک بڑی کوشش ضرور ہے، لیکن اس کے کامیاب نفاذ کے لیے کمانڈ کے ڈھانچے کے ساتھ ساتھ فوجی وسائل اور جنگی تیاریوں میں موجود بنیادی خلا کو دور کرنا بھی ضروری ہوگا





