ٹرمپ نے آئی سی ای سربراہ کے لیے نامزد امیدوار واپس لے لیا، سینیٹ میں منظوری کا عمل آگے نہ بڑھ سکا
وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی سربراہی کے لیے نامزد کیے گئے سابق اوکلاہوما ہائی وے پٹرول میجر لانس شروئر کی نامزدگی اچانک واپس لے لی ہے، تاہم اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی،یہ نامزدگی جون میں کی گئی تھی اور اس کے واپس لیے جانے سے ICE ایک مرتبہ پھر سینیٹ سے منظور شدہ مستقل ڈائریکٹر کے بغیر رہ گئی ہے
شروئر تقریباً 29 سال اوکلاہوما میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ رہے اور امریکی میرین کور میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں،وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری مارک وین ملن کے سینئر مشیر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے،اوکلاہوما میں انہوں نے مقامی پولیس اور ICE کے درمیان تعاون بڑھانے اور ریاستی اہلکاروں کو امیگریشن قوانین کے نفاذ کی تربیت دینے میں کردار ادا کیا تھا
تاہم ان کی نامزدگی سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکی،سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی اینڈ گورنمنٹل افیئرز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رینڈ پال نے ان کی سماعت مقرر نہیں کی تھی اور شروئر کی حمایت کے بارے میں بھی واضح مؤقف نہیں دیا تھا،رپورٹس کے مطابق پال نے امیگریشن اہلکاروں کی جانب سے مینیسوٹا میں دو امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تحقیقات کی مزید معلومات کا مطالبہ کیا تھا
شروئر کی نامزدگی ایسے وقت میں واپس لی گئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن گرفتاریوں اور ملک بدری کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور ICE انتظامیہ مسلسل سیاسی اور عوامی جانچ پڑتال کی زد میں ہے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جولائی میں وفاقی حکام نے 49 ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو حراست میں لیا، جو ٹرمپ کی دوسری مدت میں اس وقت تک کی بلند ترین ماہانہ تعداد تھی
ICE کو 2017 کے بعد سے سینیٹ سے مستقل ڈائریکٹر کی منظوری نہیں مل سکی،موجودہ قائم مقام ڈائریکٹر ڈیوڈ وینچریلا ہیں، جنہوں نے سابق قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لیونز کے استعفے کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالی،وائٹ ہاؤس نے شروئر کی نامزدگی واپس لینے کے بعد فوری طور پر نئے امیدوار کا اعلان نہیں کیا






