شہباز شریف لندن روانہ، انُکے پیچھے فوج میں بڑی تبدیلیوں کا مرحلہ؛ اہم فیصلے وزیراعظم کی غیر موجودگی میں ہونگے
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف آج اپنے وفد کے ہمراہ لندن روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ دو روز قیام کے بعد 20 ستمبر کی شام نیویارک پہنچیں گے،وزیراعظم کا اصل سرکاری دورہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہے اور وہ 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،وزیراعظم کے لندن روانگی کی آج کی رپورٹس نے تصدیق کردی ہے، جبکہ دفتر خارجہ نے بھی ان کی آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے
لیکن اس دورے کا ایک غیر معمولی پہلو اس کا وقت ہے،وزیراعظم ایسے وقت میں ملک سے باہر ہیں جب پاکستان میں فوج کی اعلیٰ کمان میں آئندہ تقرریوں، تبادلوں اور ممکنہ ترقیوں سے متعلق اہم فیصلوں کا مرحلہ جاری ہے،ذمہ دار ذرائع کے مطابق آئندہ ایک دو روز میں فوج کی اعلیٰ کمان کے اگلے اجلاس میں سینئر فوجی افسران کی نئی ذمہ داریوں اور ایک اور ممکنہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کی فور اسٹار تقرری سمیت متعدد معاملات زیرغور آسکتے ہیں، تاہم ان مخصوص فیصلوں اور ناموں کی سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جولائی میں لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو فور اسٹار جنرل بنا کر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا پہلا کمانڈر مقرر کیا جاچکا ہے،اس تقرری کے وقت وہ فوج کی سینیارٹی لسٹ میں آٹھویں نمبر پر تھے اور ان سے سینئرسات لیفٹیننٹ جنرل سپرسیڈ ہوئے تھے، جبکہ سب سے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک توسیعی مدت پر اپنے عہدے پر برقرار رہے
اسی لیے اب ہونے والی اگلی سطح کی تقرریاں محض معمول کی پوسٹنگز نہیں سمجھی جارہیں،27ویں آئینی ترمیم کے بعد فوج کے اعلیٰ کمانڈ ڈھانچے میں پہلے ہی بڑی تبدیلیاں ہوچکی ہیں اور عامر رضا کی تقرری کے بعد مزید سینئر عہدوں، کور کمانڈرز اور پرنسپل اسٹاف افسران کی تبدیلیوں کا امکان رپورٹ کیا گیا تھا
دوسری جانب وزیراعظم کا لندن سے نیویارک کا سفر بھی معمول کے سفارتی شیڈول سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے،اقوام متحدہ کا 81واں اجلاس 8 ستمبر کو شروع ہوچکا ہے، جبکہ اصل جنرل ڈیبیٹ 22 ستمبر سے شروع ہوگی،وزیراعظم 25 ستمبر کو خطاب کریں گے
یعنی شہباز شریف 17 ستمبر کو پاکستان سے نکلے ہیں، دو روز لندن میں رہیں گے اور پھر نیویارک پہنچیں گے، جہاں 22 ستمبر سے شروع ہونے والے ہائی لیول مرحلے میں عالمی رہنماؤں کی آمد ہوگی،دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے خطاب میں کشمیر، فلسطین، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی مسائل اور اقوام متحدہ میں اصلاحات سمیت متعدد موضوعات اٹھائے جائیں گے
نیویارک میں اس مرتبہ بھی دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت جمع ہوں گے، لیکن اقوام متحدہ کے اجلاس کی اصل اہمیت اس کے رسمی خطابات سے زیادہ ان غیر رسمی سفارتی ملاقاتوں میں ہوتی ہے جو اجلاس کے سائیڈ لائنز پر ہوتی ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق جنرل ڈیبیٹ میں 193 رکن ممالک کے نمائندے عالمی مسائل پر اپنے مؤقف پیش کریں گے
وزیراعظم شہباز شریف کے امریکی دورے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی توقع بھی ظاہر کی جارہی ہے، تاہم اس ملاقات کی حتمی سرکاری تفصیلات الگ سے سامنے آنا باقی ہیں
یوں اس پورے سفر میں ایک قابلِ توجہ تضاد سامنے آتا ہے،پاکستان کا وزیراعظم اقوام متحدہ میں عالمی سفارت کاری کے لیے ملک سے باہر ہے، جبکہ اسی دوران پاکستان میں فوج کی اعلیٰ قیادت کی آئندہ تشکیل سے متعلق فیصلوں کا مرحلہ سامنے آگیا ہے،ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وزیراعظم کی لندن اور پھر نیویارک موجودگی ان فیصلوں پر براہ راست اثر ڈالے گی یا نہیں، لیکن موجودہ ٹائمنگ نے اس دورے کو محض اقوام متحدہ کے سالانہ رسمی دورے سے زیادہ اہم بنا دیا ہے






