عمران خان کے علاج کا معاملہ دو اعلیٰ عدالتوں کے درمیان پہنچ گیا، 20 اور 27 ستمبر کے مارچوں سے پہلے اسلام آباد میں کنٹینرز اور سکیورٹی سخت

عمران خان کے علاج کا معاملہ دو اعلیٰ عدالتوں کے درمیان پہنچ گیا، 20 اور 27 ستمبر کے مارچوں سے پہلے اسلام آباد میں کنٹینرز اور سکیورٹی سخت

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا معاملہ اب محض طبی سہولت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کے ایک اہم آئینی سوال میں تبدیل ہوگیا ہے،اسی دوران 20 ستمبر کو جماعت اسلامی اور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے اعلانات کے باعث دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں اور بڑی تعداد میں کنٹینرز مختلف داخلی و خارجی راستوں پر پہنچائے جا رہے ہیں
معاملے کی بنیادی کڑی 18 اگست کو سپریم کورٹ کا وہ حکم تھا جس میں تین رکنی بینچ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی،عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو 16 ستمبر تک اسپتال میں رکھا جائے اور آئندہ سماعت پر ان کی طبی صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے،سپریم کورٹ نے مکمل میڈیکل ریکارڈ، گزشتہ ملاقاتوں اور ان کے بیٹوں سے رابطے کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں
16 ستمبر کی سماعت میں تاہم معاملہ اس سوال پر پہنچ گیا کہ اب اس کیس کو کون سی عدالت آگے بڑھائے گی،وفاقی آئینی عدالت نے ایک روز پہلے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا تھا،وفاقی آئینی عدالت نے یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 175-E کے تحت کیا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اسے آئینی تشریح سے متعلق معاملات میں ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار دیتا ہے،اس کے علاوہ ہائی کورٹس میں زیر سماعت اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا
یہاں اہم بات یہ ہے کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وفاقی آئینی عدالت کو سادہ الفاظ میں ’’سپریم کورٹ سے بڑی عدالت‘‘ قرار دے دیا گیا ہے،دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار الگ نوعیت کے ہیں،موجودہ تنازعہ دراصل یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق اس مخصوص معاملے میں وفاقی آئینی عدالت کا دائرہ اختیار کہاں تک ہے اور سپریم کورٹ کے زیر سماعت مقدمے پر اس کا حکم کس حد تک لازم ہے،16 ستمبر کو سپریم کورٹ نے بھی اسی قانونی سوال پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی کہ کیا وفاقی آئینی عدالت کا حکم سپریم کورٹ کے لیے پابند ہے اور کیا ایک ہی معاملے پر دو اعلیٰ عدالتیں بیک وقت دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟
17 ستمبر کو سامنے آنے والی عدالتی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فوری طور پر کسی تصادم کی طرف جانے کے بجائے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی،جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس صورتحال کو دو اعلیٰ عدالتی اداروں کے درمیان مناسب عدالتی تعاون برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا،سپریم کورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ کے مقدمات کو وفاقی آئینی عدالت کے سامنے منتقل کرنے کا طریقہ واضح طور پر درج ہے یا نہیں
یوں عمران خان کی صحت سے متعلق وہ معاملہ جس کا آغاز اس سوال سے ہوا تھا کہ جیل میں موجود ایک قیدی کو مناسب طبی سہولت کہاں اور کس طریقے سے فراہم کی جائے، اب آئینی عدالتوں کے اختیارات کی نئی تقسیم کا عملی امتحان بن چکا ہے،وفاقی آئینی عدالت کا موقف یہ ہے کہ آئینی تشریح سے متعلق سوال کی صورت میں اسے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے، جبکہ سپریم کورٹ میں یہ سوال زیر غور ہے کہ اس اختیار کا اطلاق پہلے سے اس کے سامنے زیر سماعت مقدمے پر کس حد تک ہوسکتا ہے
اس عدالتی پیش رفت کے ساتھ ہی سیاسی محاذ پر بھی اسلام آباد میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو رہی ہے،جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور اس کی ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی سرگرمیاں اب دارالحکومت کی طرف مارچ میں تبدیل ہونے والی ہیں،جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت نے راستوں پر کنٹینرز رکھے تب بھی مارچ اور دھرنا جاری رکھا جائے گا
اس کے صرف ایک ہفتے بعد 27 ستمبر کو پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے لیے اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے،انتظامیہ پہلے ہی اس مارچ کے ممکنہ راستوں پر اقدامات شروع کر چکی ہے،رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ، اضافی نفری اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان تیار کیا گیا ہے جبکہ پہلے ہی ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز کا انتظام کرنے کی ہدایت دی جاچکی ہے
صورتحال کی حساسیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ 20 ستمبر کی جماعت اسلامی کی کال اور 27 ستمبر کی پی ٹی آئی کال کے درمیان دیگر احتجاجی پروگرام بھی موجود ہیں،جڑواں شہروں کی انتظامیہ کے مطابق 22 ستمبر کو آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی، 25 ستمبر کو کسان تنظیموں اور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کے باعث مسلسل کئی دن سکیورٹی دباؤ رہنے کا خدشہ ہے،ہسپتالوں میں ایمرجنسی انتظامات اور پولیس و انتظامیہ کی اضافی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں
17 ستمبر تک دستیاب اطلاعات کے مطابق اسلام آباد مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں، ڈی چوک، کشمیر ہائی وے، اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد کے اطراف کنٹینرز پہنچائے جا چکے ہیں،ٹرانسپورٹرز کی تنظیم نے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز پکڑے جانے پر احتجاج بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض کنٹینرز میں موجود تجارتی سامان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے
خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر بھی انتظامی سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں،17 ستمبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے اٹک کے اہم داخلی راستوں کا دورہ کیا، جبکہ چچ انٹرچینج، ہارون برج اور غازی بروتھا برج کے قریب کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کی منتقلی کی اطلاعات سامنے آئیں،
اس پورے منظرنامے میں 16 ستمبر کی تاریخ اس لیے اہم تھی کہ سپریم کورٹ نے اسی دن عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر مزید پیش رفت متوقع کی تھی، مگر اس کے بجائے معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے ریکارڈ طلب کرنے کے حکم اور دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار کے سوال تک پہنچ گیا،اب عدالتی محاذ پر اصل سوال عمران خان کے علاج سے آگے بڑھ کر یہ ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان آئینی مقدمات کی حد بندی عملی طور پر کیسے متعین ہوگی، جبکہ سیاسی محاذ پر 20 اور 27 ستمبر کے احتجاج اسلام آباد کی انتظامی اور سکیورٹی حکمت عملی کا بڑا امتحان بن چکے ہیں

قومی خبریں سے مزید