Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہ“کینسر کے خلاف تاریخ کا نیا موڑ؛ جان لیوا بیماری پر قابو...

ٹرینڈنگ

“کینسر کے خلاف تاریخ کا نیا موڑ؛ جان لیوا بیماری پر قابو پانے والی دوا نے دنیا بھر کے ماہرین کو کھڑے ہو کر تالیاں بجانے پر مجبور کر دیا

طبی دنیا میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جسے ماہرین “برسوں میں کینسر کے خلاف سب سے امید افزا خبر” قرار دے رہے ہیں۔ ایک نئی تجرباتی دوا نے لبلبے کے کینسر (پینکریاٹک کینسر) جیسے انتہائی خطرناک اور جان لیوا مرض کے علاج میں غیر معمولی نتائج دکھائے ہیں، جس پر عالمی طبی برادری میں خوشی اور امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔

امریکی شہر شکاگو میں منعقد ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی کینسر کانفرنس کے دوران محققین نے بتایا کہ نئی دوا “داراکسونراسیب” نے ایسے مریضوں میں حیران کن نتائج دیے جن کے لیے پہلے علاج کے امکانات انتہائی محدود سمجھے جاتے تھے۔ کانفرنس میں نتائج پیش کیے جانے پر ماہرینِ سرطان نے کھڑے ہو کر طویل تالیاں بجائیں، جسے کئی دہائیوں میں ایک غیر معمولی منظر قرار دیا گیا۔

تحقیقی نتائج کے مطابق اس دوا نے بعض مریضوں میں کینسر کو قابو میں رکھنے کا دورانیہ تقریباً دوگنا کر دیا، جبکہ مجموعی بقا کی شرح میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبلبے کا کینسر طویل عرصے سے ان بیماریوں میں شامل رہا ہے جن کا مؤثر علاج تلاش کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا۔

سائنسی جریدے “نیچر” نے اس کامیابی کو ایک “تاریخی سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس پیش رفت نے اُن سرطانوں کے علاج کی امید بھی بڑھا دی ہے جنہیں اب تک “ناقابلِ علاج” یا “ہدف نہ بنائے جا سکنے والے” کینسر سمجھا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ کامیابی صرف ایک دوا تک محدود نہیں بلکہ کینسر کے علاج کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جس میں مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کو نشانہ بنا کر زیادہ مؤثر اور کم نقصان دہ علاج ممکن ہوگا۔

مزید پڑھیں