Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمصنوعی ذہانت کے دور میں چین کا بڑا کارنامہ؛ سمندر کی تہہ...

ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت کے دور میں چین کا بڑا کارنامہ؛ سمندر کی تہہ میں قائم دنیا کا پہلا ہوا سے چلنے والا ڈیٹا سینٹر کام شروع کر گیا

مصنوعی ذہانت کے دور میں چین کا بڑا کارنامہ؛ سمندر کی تہہ میں قائم دنیا کا پہلا ہوا سے چلنے والا ڈیٹا سینٹر کام شروع کر گیا

چین نے ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کا پہلا ہوا سے چلنے والا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا ہے۔ یہ منفرد منصوبہ شنگھائی کے ساحل کے قریب قائم کیا گیا ہے اور اسے مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کا ماحول دوست حل قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شنگھائی لِنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر نے مئی 2026 میں باضابطہ طور پر کام شروع کیا۔ اس منصوبے کی مجموعی استعداد 24 میگاواٹ ہے اور اسے نجی کمپنی ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور سرکاری ادارے چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کو سرورز ٹھنڈے رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں بجلی اور پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ سمندر کے نیچے نصب یہ مرکز قدرتی طور پر سمندری پانی کی ٹھنڈک سے فائدہ اٹھاتا ہے، جس سے توانائی اور پانی دونوں کی کھپت نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب ریکارڈ سطح تک پہنچ رہی ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹرز نہ صرف توانائی کے اخراجات کم کریں گے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

یہ منصوبہ کیوں اہم ہے؟

  • مصنوعی ذہانت کے لیے درکار طاقتور کمپیوٹنگ نظام کو کم توانائی میں چلانے کی کوشش۔
  • روایتی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں کم پانی اور کم بجلی کا استعمال۔
  • قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار۔
  • ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کا امکان

مزید پڑھیں