Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانچیف سکریٹری پنجاب کیخلاف بے بنیاد پرپگنڈا، قریبی ذرائع کی تردید ۔...

ٹرینڈنگ

چیف سکریٹری پنجاب کیخلاف بے بنیاد پرپگنڈا، قریبی ذرائع کی تردید ۔ ستھرا پنجاب میں عوام مطمئن اور حالات کنٹرول میں ہیں۔ سرکاری ترجمان

چیف سکریٹری پنجاب کیخلاف بے بنیاد پرپگنڈا، قریبی ذرائع کی تردید ۔ ستھرا پنجاب میں عوام مطمئن اور حالات کنٹرول میں ہیں۔ سرکاری ترجمان

پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر صوبہ پنجاب کے چیف سکریٹری کی صبح شام واک کیلئے انکی سرکاری رہائشگاہ کے باغیچے کی تزئین و آرائش کیلئے بائیس کروڑ خرچ کرنے کی خبر پر صوبائی حکومت اور سرکاری بابو بہت ناراض ہیں۔ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان اپنی گوجرانوالہ بطور کمشنر تعنیاتی کے دوران اُسوقت کے کور کمانڈر گجرانوالہ جو آجکل ملک کے طاقتور ترین عسکری عہدے پر فائز ہیں انکے انتہائی قریب ہو گئے تھے۔ اس قربت کی بنا پر انکو نگران دور میں چیف سیکریٹری پنجاب لگایا گیا۔ چیف سیکریٹری اس دور میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ناک کا بال تھے مگر مسلم لیگ کی حکومت آتے ہے پنترا بدل کر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے قریب ہو گئے۔ موصوف اس سے قبل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ چیف سکریٹری پنجاب گزشتہ کئی سالوں سے صوبہ پنجاب کے معاملات پر پورا کنٹرول کیے ہوئے ہیں، انکی کام سے لگن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ صبح وزیر اعلیٰ صاحبہ کے بیدار ہونے سے قبل انکی رہائش گاہ پہنچ جاتے ہیں اور محترمہ مریم نواز جب رات سونے کیلئے جاتی ہیں تو وہ واپس اپنے دفتر یا گھر جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے بیرون ملک سرکاری یا نجی دوروں میں بھی وہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ موجود ہوتے ہوتے ہیں ، مبینہ طور پر انکی پرتگال سمیت دوسرے ملکوں میں جائیدادوں کی خبریں بھی زیر گردش ہیں ۔ اگرچہ سرکاری ذرائع سے چیف سیکریٹری کیخلاف منفی خبروں سے متعلق کوئی وضاحت نہیں آئی ، تاہم انکے قریبی ذرائع نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پنجاب میں اس سے قبل ناصر کھوسہ جیسے اعلیٰ صفات اور شاندار ریکارڈ کے حامل چیف سیکریٹری رہے جبکہ بہت سے کرپٹ، نااہل اور خوشامدی چیف سکریٹری بھی آئے مگر موجودہ چیف سیکریٹری نے اپنے عہدے کو جو کبھی لاٹ صاحب کہلاتا تھا جس طرح چار چاند لگائے اس سے سول سروس کے موجودہ حالات اور تنزلی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں. ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے اس حوالے سے چلنے والی خبروں اور کلپس کو اتارنے کے لیے ٹیلی ویژن چینلز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے

مزید پڑھیں