لبنان پھر جنگ کی آگ میں؛ تاریخی شہر صور پر اسرائیلی حملہ، 8 افراد جاں بحق، ایران کی نئی دھمکی
لبنان پھر جنگ کی آگ میں؛ تاریخی شہر صور پر اسرائیلی حملہ، 8 افراد جاں بحق، ایران کی نئی دھمکی
لبنان کے تاریخی ساحلی شہر صور ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق منگل کے روز اسرائیل نے جنوبی لبنان کے اہم بندرگاہی شہر صور کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ رواں سال 2 مارچ سے شروع ہونے والی لڑائی کے بعد شہر پر ہونے والا سب سے خونریز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حملے سے قبل اسرائیلی فوج نے پورے شہر کے لیے انخلا کا حکم بھی جاری کیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف ایک روز قبل ایران اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے بعد ایک دوسرے پر براہِ راست حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم تہران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اس کے اتحادی حزب اللہ پر حملے جاری رکھے تو ایران دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
ادھر خلیج میں بھی صورتحال غیر معمولی رہی۔ آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد امریکی ڈرون نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا۔ یہ واقعہ اس حساس آبی گزرگاہ میں پیش آیا جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
صور، جو لبنان کے قدیم ترین اور تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے، حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیلی حملے اسی شدت سے جاری رہے اور ایران اپنے انتباہ پر عمل کرتا ہے تو لبنان، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
خطے میں وقتی جنگ بندی کے باوجود صور پر ہونے والا تازہ حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے


