Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانفیصلہ کن دن : آزاد کشمیر کے کونے کونے سے عوام کا...

ٹرینڈنگ

فیصلہ کن دن : آزاد کشمیر کے کونے کونے سے عوام کا مظفر آباد کی جانب رخ، کسی وقت بھی سیکورٹی فورسز سے خونی تصادم کا خدشہ

فیصلہ کن دن : آزاد کشمیر کے کونے کونے سے عوام کا مظفر آباد کی جانب رخ، کسی وقت بھی سیکورٹی فورسز سے خونی تصادم کا خدشہ

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی اور عوامی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی کال پر آج 9 جون کو ریاست کے مختلف اضلاع سے قافلے مظفر آناد کی جانب لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ مارچ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ عوامی حقوق، ریاستی خودمختاری اور عوامی مطالبات کے حق میں ایک فیصلہ کن عوامی تحریک ہے، ایک ایسے ماحول میں کے جب کال دینے والی تنظیم کشمیر ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد قرار دیکر سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور راولا کوٹ میں عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان خونی جھڑپوں جنکے دوران متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوچکے، اور پوری وادی کو فوج ریینجرز ایف سی اور پنجاب و اسلام آباد پولیس کی مدد سے مکمل گھیرے میں لیا ہوا ہے اس بڑے پیمانے پر عوام کا لانگ مارچ کے لیے نکلنا حیرانی سے دیکھا جارہا ہے
گزشتہ کئی ہفتوں سے آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا تھا۔ حکومت اور کشمیر ایکشن کمیٹی کے درمیان اختلافات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب ریاستی حکام نے کمیٹی کی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے۔ مختلف علاقوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور کارکنوں کی حراست کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ قانون و امن برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو عوامی نظم و نسق یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

کشمیر ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات میں عوامی حقوق کا تحفظ، سیاسی آزادیوں کی ضمانت، گرفتار کارکنوں کی رہائی، عوامی نمائندگی سے متعلق معاملات اور دیگر ریاستی امور شامل ہیں۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان مطالبات کو نظرانداز کیے جانے کے بعد عوامی دباؤ بڑھانے کے لیے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا گیا۔

ریاست کے مختلف علاقوں، جن میں مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی، میرپور، بھمبر، حویلی اور نیلم شامل ہیں، سے قافلوں کی روانگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز اور تصاویر میں کارکنوں اور حامیوں کو جھنڈے اور بینرز اٹھائے مارچ کی تیاری کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آج کا دن آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بڑی تعداد میں عوام لانگ مارچ میں شریک ہوتے ہیں تو یہ حکومت پر سیاسی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا سخت انتظامی کارروائی کے نتیجے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، ادھر آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے عوامی غم و غصہ اور اشتعال دیکھ کر ایک بار پھر کشمیر ایکشن کمیٹی کے مفرور رہنماؤں سے مذاکرات کا عندیہ ہے تاہم سیاسی و صحافتی تجزیہ نگار کہتے ہیں کشمیری کٹھُ پتلی وزیراعظم نے راولا کوٹ پر سیکورٹی فورسز کی چڑھائ سے قبل بھی کشمیر ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کمیٹی کے اہم مطالبے پاکستان میں مہاجرین کشمیر کی کشمیر اسمبلی میں بارہ نشتوں میں سے چھ کو ختم کرنے کی بات ہوسکتی ہے تاہم اس سے قبل وزیراعظم کی پیشکش پر بات آگے بڑھتی سیکورٹی فورسز نے راولا کوٹ پر حملہ کرکے حالات وہاں پہنچا دیے جہاں سے بات چیت کا ہر دروازہ بند ہوگیا

ادھر مختلف سیاسی، سماجی اور تجارتی حلقے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حکومت اور احتجاجی قیادت کسی مرحلے پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے یا ریاست ایک طویل سیاسی محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہے

مزید پڑھیں