مسلم اکثریتی لکشدیپ میں شراب کی فروخت کی اجازت: پالیسی میں بڑی تبدیلی کے پیچھے سیاحت کا نیا منصوبہ
مسلم اکثریتی لکشدیپ میں شراب کی فروخت کی اجازت: پالیسی میں بڑی تبدیلی کے پیچھے سیاحت کا نیا منصوبہ
نئی دہلی/لکشدیپ: بھارت کے مرکز کے زیرِ انتظام خطے لکشدیپ میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے تحت شراب کی فروخت پر عائد طویل عرصے سے پابندی میں نرمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد اب محدود اور ریگولیٹڈ لائسنسنگ نظام کے تحت الکوحل کی فروخت کی اجازت دی جا رہی ہے۔
تقریباً پانچ دہائیوں سے لکشدیپ میں شراب کی فروخت پر سخت پابندی نافذ تھی، جس کی ایک بڑی وجہ مقامی آبادی کی مذہبی و سماجی ساخت تھی، جہاں تقریباً 97 فیصد آبادی مسلم ہے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ نئی پالیسی بنیادی طور پر سیاحت کو فروغ دینے اور خطے میں معاشی سرگرمی بڑھانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لکشدیپ کو بین الاقوامی اور ملکی سیاحوں کے لیے زیادہ “پرکشش” بنانا ہے، تاکہ ہوٹل انڈسٹری، روزگار اور مقامی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایک حساس سماجی اور ثقافتی بحث کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف معاشی ترقی اور سیاحت کے مواقع ہیں، جبکہ دوسری طرف مقامی ثقافتی اور مذہبی اقدار کے تحفظ کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
سیاحتی پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی سیاحتی مقامات میں ریگولیٹڈ الکوحل سروس معمول کا حصہ ہے، اور مناسب ضوابط کے ساتھ یہ تبدیلی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مقامی کمیونٹی کی رائے اور حساسیت کو نظرانداز کیا گیا تو یہ اقدام سماجی تناؤ اور ثقافتی مزاحمت کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ پالیسی تبدیلی لکشدیپ کے مستقبل کے معاشی ماڈل میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں سیاحت اور ثقافتی شناخت کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہو


