سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کوشش کررہی ہے ایمان و اخلاق کے بھاشن مٹا دیئے جائیں
پاکستان جو اسلام کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے مگر جہاں زبان تہذیب فرقہ اہم ترین پایا ہے اب وہاں بدعنوانی بھی ایک اہم خصوصیت ہے اور اگر فرقہ میچ کرتا ہوتو سونے پر سہاگہ ہے ، یہ فرقے کی ہی کرامت ہے گلگت بلتستان میں انتخابی انجنئیرنگ بھی فرقہ سامنے رکھ کر کی گئی کے ان دنوں پاکستان میں نقوی رضوی ایک اعلیٰ اور انتہائ اہم اور اضافی ڈگری ہے ، کہا جارہا ہے کراچی کے کمشنر نقوی ضرورت سے زیادہ کما لینے اور گھر میں جگہ باقی نہ رہنے کے باعث کچھ عرصے کے لیے عیش کرنے یورپ امریکہ کے سیاحتی و استراحتی دورے پر نکل گئے ہیں انُکی جگہ فوری طور پر کراچی ضلع ملیر کے ڈپٹی کمشنر کو سمیع اللہ نثار علی شیخ کو ایڈیشنل چارج دیکر بٹھا دیا گیا ہے ، نثار علی شیخ کی وجہ شہرت بالکل من و عن وہی ہے جو پیپلز پارٹی کی قیادت اسکی صوبائ کابینہ اسکے ساتھ کام کرنے والی سول بیوروکریسی کی ہے ، کراچی کے مستند ترین صحافتی ذرائع جنہوں نے اس تقرری پر دانتوں میں انگلیاں دبائ ہوئ ہییں انکا کہنا ہے “ ہم ہی نہیں ضلع ملیر کے عوام اس تقرری پر دانتوں میں انگلیاں دبائے ہوئے ہیں ، ان حلقوں کا دعویٰ ہے نثار علی خان دوسرے راؤ انوار ہیں عام آدمی انہیں دیکھ کر کانپ جاتا ہے تو علاقے کا قبضہ مافیا انکے کمشنر بننے کی خبر سنکر خوشی سے دھمال ڈال رہا ہے ، منشیات کے آڈوں پر جشن منائے جارہے ہیں ، کراچی کے صحافتی حلقوں کا دعویٰ ہے ، سندھ حکومت انتہائی جانفشانی اور پورے جنوں کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانے پر تلی ہوئ ہے کہ کسی طور عام آدمی کو یقین دلا دے اس شہر اور اس صوبے میں رہنا ہے تو کردار اخلاق ایمانداری انسانی و قومی خدمت کے بھاشن کتابوں سے ہی نہیں ذہن سے بھی مٹانے ہونگے


