Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںخلیج میں آگ دوبارہ بھڑک اٹھی: ایران کے مسلسل حملوں نے مشرقِ...

ٹرینڈنگ

خلیج میں آگ دوبارہ بھڑک اٹھی: ایران کے مسلسل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا

خلیج میں آگ دوبارہ بھڑک اٹھی: ایران کے مسلسل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، کیونکہ ایران نے مسلسل دوسرے روز بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں جنہوں نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو عملاً بے معنی بنا دیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح ایران کی مسلح افواج نے دو مرحلوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں واقع پانچ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، جوابی حملے بھی جاری رہیں گے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں نے جنگ بندی کے باقی ماندہ امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تہران اب ان تمام مراکز کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سفارتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر حملوں اور جوابی حملوں کا یہ سلسلہ نہ رکا تو مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کو بھی متاثر کریں گے۔

عسکری ماہرین کے مطابق موجودہ بحران پہلے ہی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے مسلسل دوسرے دن امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ تنازع اب محدود کارروائیوں کی سطح سے نکل کر ایک وسیع تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اگر فریقین نے فوری طور پر سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے خطرناک ترین دنوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب جنگ بندی کا ڈھانچہ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور فریقین کے بیانات میں مفاہمت کے بجائے تصادم کی زبان نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اس وقت خلیج اور مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہیں، جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے

مزید پڑھیں